بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسلمانوں کا سكھوں کے لیے شمشان گھاٹ تعمیر کرنا


سوال

ا گر سکھ برادری کا شمشان گھاٹ سیلاب کے نذر ہو چکا ہو تو کیا مسلم برادری ان کے لئے شمشان گھاٹ دوبارہ تعمیر کر سکتے ہيں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے جس طرح  مسلمانوں کے حقوق بیان کیے ہیں، اور ان کی جان مال عزت آبرو  کی حفاظت کا پابند کیا ہے، بالکل اسی طرح  غیر مسلموں کے حقوق بھی بیان کیے ہیں، خاص طور پر ان غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت کا مسلمانوں کو پابند کیا ہے، جو مسلم ممالک میں رہتے ہوں، البتہ مسلمانوں کے لیے غیر مسلموں کےمذہبی رسومات میں شرکت کرنا یا ان کےمذہبی رسومات کے مقامات کی تعمیر میں ان کے ساتھ تعاون اور مدد کرنا جائز نہیں۔

لہذاصورتِ مسئولہ میں مسلمانوں کا سکھ برادری والوں کے لیے شمشان گھاٹ کی تعمیر کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ ان کے مذہبی رسوم کی آدائیگی کی جگہ ہے۔

 

وقوله تعالى ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى﴾  يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان لله تعالى لأن البر هو طاعات الله وقوله تعالى ﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ﴾  نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى. (أحكام القرآن للجصاص سورة المائدة،آية:3،ج:3،ص: 296)


فتویٰ نمبر : 6516/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں