بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

والدہ کو ایصالِ ثواب کا سٹامپ پیپر تحریر کرکے دینا


سوال

میں علم تجوید سیکھ رہا ہوں ، میں نے پہلے دن سے وعدہ کیا ہے اپنی والدہ کے ساتھ( والدہ حیات ہے ) کہ علم التجوید سیکھنے اور بعد میں دوسروں کو سکھانے کا سارا ثواب آپ کو بخشتا ہوں ۔ میں نے یہ بیان حلفی سٹامپ پیپر پر دوگواہوں کے سامنے تحریر بھی کیا ہے تاکہ والدہ مطمئن رہے۔کیا اس طرح ثواب بخشنا اور بیان حلفی/ معاہدہ (صرف والدہ کی رضا اور اطمینان کے لیے) لکھنا جائز ہے ؟

جواب

شریعت مطہرہ کی روشنی میں  مسلمان  کےلیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے نيك اعمال جيسے نماز،روزه ،حج،صدقہ یا  دیگر نیک اعمال کا ثواب کسی دوسرے مسلمان کو  بخش دے،خواہ وہ زندہ ہو یا وفات پاچکا ہو،نیزکسی کو تسلی اور یقین  دلانے کی خاطر جس طرح زبانی وعدہ جائز ہے اسی  طرح تحریری شکل میں بھی  بیانِ حلفی ریکارڈ کرکے دینے کی گنجائش  بھی موجودہے،تاکہ مخاطب کےلیے اطمینان اورتسلی کا سامان مہیا ہو۔

صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ علم تجوید سیکھنا اوردوسروں کو سکھانا ایک نیک عمل ہے،لہذا بھلائی اورخیرخواہی کی خاطراس کا ثواب  اپنی والدہ کو بخشنا ایک مستحسن اورموجب ثواب عمل ہے،نیز ان کی زندگی میں اس بیان حلفی کو  سٹامپ پیپر لکھ کر دینا بھی ممنوع نہیں۔

 

فإن من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات أو الأحياء جاز ‌ويصل ‌ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الحج، فصل في نيات الحرم، ج: 2، ص: 212)

صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية، بل في زكاة التتارخانية عن المحيط: الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره شيء اهـ هو مذهب أهل السنة والجماعة...وفي كتاب الروح للحافظ أبي عبد الله الدمشقي الحنبلي الشهير بابن قيم الجوزية ما حاصله: أنه اختلف في إهداء الثواب إلى الحي؛ فقيل يصح لإطلاق قول أحمد: يفعل الخير ويجعل نصفه لأبيه أو أمه. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة،مطلب في زيارة القبور، ج: 2، ص: 243)         


فتویٰ نمبر : 6487/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں