بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شہدا کا ریکارڈ محفوظ کرنے اور آگے شائع کرنے کاحکم


سوال

کیا یہ جائز ہےکہ کفار کے حملے کے بعد جائے وقوعہ میں لوگوں سے دریافت کیا جائے کہ شہداء میں کون عام شہری تھے اورکون مجاہدین ؟اگر کوئی گواہی دیتے ہوئے معروف مجاہدین کے نام لے تو کیا ایسی گواہی شائع کرنا جائز ہےجب کہ اس سے کسی کو نقصان نہ پہنچے۔

جواب

شریعت مطہرہ کی روشنی میں  مفاد عامہ میں ہر اس  جائز کام کرنے کی گنجائش ہے جس سے  کسی   کو ضررلاحق  نہ ہو،نیز ضرر اور نقصان کوحتی الوسع ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

صورت مسئولہ کے مطابق مجاہدین  اورغیر مجاہدین کے بارے میں پوچھنے اور ان کا ریکارڈ محفوظ کرنے کی وجہ سے اگر ان کے خاندان والوں کو بعد میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے،تو شرعا اس کی گنجائش موجود  ہےتاکہ شہدا کا  ریکارڈ محفوظ  کرکےان کے مناسب حال  ان کی بیواؤں ،بچوں اورگھروالوں کی خدمت کی جائے، یا لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کیا جائے ۔ اور اگرعلی التعیین ان کے ریکارڈ کو محفوظ کرنے اورشائع کرنے  کی وجہ سے ان کے اقارب کو بعد میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہو تو پھر ازالۂ ضرر  کے پیش نظر ان  کا ریکارڈ خفیہ رکھنا ہی   بہترہے۔

 

‌‌‌‌القاعدة الثانية: الأمور بمقاصدها. (الأشباه والنظائر لابن نجيم، الفن الأول: القواعد الكلية، القاعدة الثانية، ص: 23)

القاعدة الخامسة: الضرر يزال: أصلها قوله عليه الصلاة والسلام {لا ضرر ولا ضرار} أخرجه مالك في الموطإ عن عمرو بن يحيى عن أبيه مرسلا، وأخرجه الحاكم في المستدرك والبيهقي والدارقطني من حديث أبي سعيد الخدري، وأخرجه ابن ماجه من حديث ابن عباس وعبادة بن الصامت رضي الله عنهم. وفسره في المغرب بأنه لا يضر الرجل أخاه ابتداء ولا جزاء (انتهى) . (الأشباه والنظائر لابن نجيم، ‌‌الفن الأول: القواعد الكلية، ‌‌القاعدة الخامسة: الضرر يزال، ص: 72)


فتویٰ نمبر : 6471/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں