بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

انٹرویو رپورٹ میں گواہ کے نام چھپانا


سوال

اگرکسی تاریخی،صحافتی یا تحقیقی مقاصد کےلیے گواہی ریکارڈ کی جائے اور گواہ کانام سیاسی وجوہات یا انتقامی خطرات کی وجہ سےخفیہ رکھا جائے توکیا شریعت میں ایسی شہادت کا اعتبار باقی رہتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ کی روشنی میں گواہ کے بارے میں اصول یہ  ہے کہ اس کانام ونسب،حلیہ اورجائے سکونت کے بارے میں لکھاجائے گا، نیز قاضی کو یہ بھی اختیار حاصل ہےکہ گواہ  کےناموں کوپس پردہ رکھ کر کسی مسئلہ   میں  ان کی گواہی کے بارے میں زبانی خبر دینے پر ہی اکتفا کرےیا ان کے ناموں کو ظاہر کرکے لکھ دے،چنانچہ    واقعی خطرات کےپیش نظر گواہوں  کےناموں کوچھپانے کی گنجائش موجودہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر گواہ کے نام ظاہر کرنے میں سیاسی،سماجی یا معاشرتی خطرات کا خدشہ ہو یا انتقامی کارروائی کا اندیشہ ہوتو ایسی صورت حال میں مخبر  کا  نام چھپانے کی گنجائش موجود ہے،اور نام چھپانے کے باوجود جس طرح گواہ کی   گواہی عدالت میں معتبر ہے،اسی طرح  تاریخی ،صحافتی یاتحقیقی مقاصد کےحصول کےلیے بھی ایسی خبر سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

 

والرابع ينبغى ان يكتب اسم الشاهد ونسبه وحليته ومنزله ويبعث بذلك الى أهل التزكية لئلا يسمى رجل باسم غيره فيزكي والخامس يجب ان لا يعرف اصحاب مسائله فى الافضل لانه لا يؤمن اذا عرفوا ان يحتال عليهم فى تبطيل الاحكام. (النتف في الفتاوى للسغدي، ‌‌كتاب أدب القاضي، ‌‌أدب التعديل، ج: 2، ص: 776)

 فلو ‌اختفى ‌الشاهد وستر نفسه ويرى وجه المقر ويفهمه والمقر لا يعلمه وسعه أن يشهد وهكذا يفعل بالظلمة كما في خزانة الأكمل. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الشهادات، والواحد يكفي للتزكية والرسالة والترجمة الشهادة، ج: 7، ص: 69)

قال: وهذا لما قلنا في القاضي إذا كتب في السجل إن شاء أظهر فيه أسماء الشهود وأنسابهم وإن شاء أخفى، واكتفى بقوله بعدما ثبت عندي شهادة شهود عدول كذا هاهنا. (المحيط البرهاني، ‌‌كتاب القضاء، ‌‌الفصل الرابع والعشرون: في كتاب القضاة إلى القضاة، ج: 8، ص: 141)


فتویٰ نمبر : 6472/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں