بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

خواتین سے انٹرویو لینے کے آداب


سوال

اگر خواتین (مثلا شہداء کی مائیں یا بہنیں )انٹرویو دیتی ہیں تو ریکارڈنگ کے وقت کن خاص آداب کا لحاظ رکھنا لازم ہے؟کیا مرد انٹرویو لینے والا شرعی پردے کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ فریضہ انجا م دے سکتا ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے عورتوں کےلیے ضروری ہے کہ وہ اجنبی مردوں کے سامنے سر تاپا تمام  جسم چھپائے رکھے،یہاں تک کہ بغیر  ضرورت کے ان کے سامنے آواز بھی بلند نہ کرے  کیونکہ شرعا عورت کاتمام جسم پردہ ہے،تاہم ضرورت اورحاجت کے موقع پر اسلام نے انہیں اجنبی مردو ں کے ساتھ بولنے کی اجازت دی ہےبشرطیکہ آواز میں بتکلف نرمی   اورخوش ادائیگی نہ دکھائے۔

صورت مسئولہ کے مطابق عورتوں کے لیےشرعی پردہ کی رعایت رکھتے ہوئے  چشم دید واقعات کی خبردینے کی گنجائش موجود ہے، بشرطیکہ  انٹرویو دیتے وقت آواز میں بتکلف نرمی اور خوش ادائیگی نہ دکھائے ،نیز   انٹرویو لینے والے کوبھی  چاہیے کہ وہ اپنی  نگاہیں نیچی رکھے،اورغیر ضروری تفصیلات میں جانے سےگریز کرے۔

 

قال الله تعالى: ﴿ يَانِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا (32) وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى﴾ [الأحزاب: 32-33] 

(وللحرة) ولو خنثى (جميع بدنها) حتى شعرها النازل في الاصح (خلا الوجه والكفين) فظهر الكف عورة على المذهب (والقدمين) على المعتمد، ‌وصوتها ‌على ‌الراجح، وذراعيها ‌على ‌المرجوح (وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين الرجال) لا لانه عورة بل (لخوف الفتنة). (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، ص: 58)

وقد يقال المراد بالنغمة ما فيه تمطيط وتليين لا مجرد الصوت وإلا لما جاز كلامها مع الرجال أصلا لا في بيع ولا غيره وليس كذلك. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق ، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، ج: 1، ص: 285)

ثم نقل عن خط العلامة المقدسي: ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، ج: 1، ص: 406)

ويجوز الكلام المباح مع امرأة أجنبية اهـ . (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، ج: 6، ص: 369)

(المادة 21) الضرورات تبيح المحظورات.الضرورة هي العذر الذي يجوز بسببه إجراء الشيء الممنوع. المباح: والمباح شرعا هو الشيء الذي يجوز تركه وفعله في نظر الشرع، والمقصود من المباح هنا ما ليس به مؤاخذة، وأن إباحة الضرورة للمحظورات تسمى في علم أصول الفقه رخصة... أي أن الشيء الذي يجوز بناء على الضرورة يجوز إجراؤه بالقدر الكافي لإزالة تلك الضرورة فقط، ولا يجوز استباحته أكثر مما تزول به الضرورة. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام ، مقدمة كتاب درر الحكام المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادة: 21-22، ج: 1، ص: 37-38)


فتویٰ نمبر : 6475/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں