بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
تاریخی واقعے کے ثبوت کے لیے زبانی شہادتوں کا حکم
سوال
اگر کسی واقعے کی کوئی تحریری تصویری یا میڈیا میں دستاویزات موجود نہ ہوں تو کیا مقامی زبانی شہادتیں اس واقعے کے وجود کو ثابت کرنے کےلیے کافی شمار ہوں گی؟نیز اسلامی فقہ میں زبانی شہادت کی کیا حیثیت ہے خاص طور پر جب کوئی تحریری یا بصری ثبوت موجود نہ ہو کیا ایسی شہادت کو عوامی مباحثے اوررپورٹنگ میں بطور دلیل پیش کیا جاسکتا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ کسی تاریخی واقعے کےثبوت کےلیے شرعی شرائط کے ساتھ گواہوں کی موجودگی ضروری نہیں ہےبلکہ اس سلسلے میں کسی بھی ایک معتبرشخص یا کئی اشخاص کے خبر دینے پر اعتماد کیا جاسکتا ہے،نیزیہ بھی معلوم ہو کہ شہادت دراصل زبان کے ساتھ کسی واقعے کےبارےمیں سچی خبر دینے کانام ہے ، اس لیے گواہی کا لکھی ہوئی شکل میں ہونا ضروری نہیں ہے،اورنہ ہی ابتداء ً لکھی ہوئی شکل میں ہونا گواہی کے مقبول ہونے کےلیے شرط ہے،تاہم اگر کسی گواہی یا خبر کوآئندہ کےلیےبطور دلیل پیش کرنے کےلیے لکھ کر محفوظ کیا جائے تو اس کی گنجائش موجود ہے،بلکہ شرعا یہ ایک مستحسن عمل ہے۔
لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی واقعے کی کوئی تحریری،تصویری ثبوت یا میڈیا میں دستاویزات موجود نہ ہوں تواس واقعے کی تحقیق حال کےلیے مقامی لوگوں کی زبانی شہادتوں سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
والشهادة لغة، إخبار قاطع، وفي عرف أهل الشرع إخبار صدق لإثبات حق بلفظ الشهادة في مجلس القضاء فتخرج شهادة الزور فليست شهادة. (فتح القدير للكمال بن الهمام، كتاب الشهادات، ج: 7، ص: 364)
ومن ذلك أنه «لما وقعت قصة الإفك وتكلم الناس بها استشار رسول الله صلى الله عليه وسلم علي بن أبي طالب وزيد بن حارثة رضي الله عنهما، فقال زيد. أهلك يا رسول الله ولا نعلم إلا خيرا، أو لا نعلم منهم إلا خيرا، وهذا لكذب وباطل. وأما علي رضي الله عنه فإنه قال: يا رسول الله إن النساء لكثير وإنك لتقدر أن تستخلف، واسأل الجارية فإنها تصدقك، فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بريرة ليسألها، فقام إليها علي فضربها شديدا، وجعل يقول: اصدقي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتقول: والله ما أعلم إلا خيرا، وما كنت أعيب على عائشة شيئا إلا أني كنت أعجن العجين فآمرها أن تحفظه فتنام عنه فتأتي الشاة فتأكله» .فهذا من السياسة؛ لأنه ضربها لتقر بما عندها. (معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام، القسم الثالث من الكتاب في القضاء بالسياسة الشرعية، الفصل الأول في الدلالة على مشروعية ذلك من الكتاب والسنة، ص: 171)
مسألة: [الشهادة على الخبر المستفيض] قال أبو جعفر: (وجائز للرجل أن يشهد على موت رجل ممن قد اشتهر موته، أو أخبره بذلك من يثق به، ممن ذكر له أنه قد عاينه، من رجل أو امرأة)... فإن لم تكن معاينة، وأخبره بذلك من يثق به، أنه عاينه ميتًا: جاز للشاهد أن يشهد بموته أيضًا؛ لأنه لما كان طريقه الخبر: سقط فيه اعتبار العدد، كسائر أخبار الآحاد. (شرح مختصر الطحاوي للجصاص، كتاب السرقة وقطع الطريق، كتاب الشهادات، ج: 8، ص: 137)
وإنما يجوز للشاهد أن يشهد بالاشتهار وذلك بالتواتر أو بإخبار من يثق به كما قال في الكتاب... وقيل في الموت يكتفي بإخبار واحد أو واحدة لأنه قلما يشاهد غير الواحد إذ الإنسان يهابه ويكرهه فيكون في اشتراط العدد بعض الحرج... ومن كان في يده شيء سوى العبد والأمة وسعك أن تشهد أنه له" لأن اليد أقصى ما يستدل به على الملك إذ هي مرجع الدلالة في الأسباب كلها فيكتفي بها. (الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب الشهادات، مراتب الشهادات، فصل: وما يتحمله الشاهد على ضربين الخ، ج: 3، ص: 120)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں