بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

لاہور سےکراچی سفر کی صورت میں لاہور ایئرپورٹ میں قصر نماز پڑھنا


سوال

ایک شخص لاہور سے کراچی سفر کے ارادے پر نکلا، لاہور ایئرپورٹ پہنچ کر دو رکعت ظہر قصر نماز پڑھ لی، اور فلائٹ سے کچھ دیر پہلے  اعلان ہوا کہ فلائٹ 6 گھنٹے لیٹ ہے۔ اس نے ایئرپورٹ کے لاؤنج میں قیام کیا اور نمازِ عصرقصر کے ساتھ پڑھ لی۔ بعد ازاں وہ سفر پر روانہ ہوا۔کیا ظہر قصر درست تھی؟کیا عصر مکمل پڑھنی چاہیے تھی؟اگر سفر مؤخر ہو جائے تو کیا "قصر" واپس ختم ہو جاتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص 48 میل (تقریبا 78 کلو میٹر )دور سفرپر جانے کا ارادہ کرے ، توشہر کی حدود  سے نکلنے کے بعد وہ  شرعی طور پر  مسافر شمار ہوگا ،لہذا اب پوری نماز کی بجائے قصر نمازپڑھے گا۔

صورت مسئولہ کے مطابق چونکہ لاہور ایئرپورٹ(علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ) بھی ایل ڈی اے کی  رپورٹ کے مطابق  لاہور شہر کی حدود میں شامل ہے ،لہذا لاہور سے کراچی سفر کے دوران لاہور ایئرپورٹ میں قصر نماز پڑھنا جائز نہیں ،کیونکہ ایئرپورٹ ایریا  لاہورشہر کی حدود میں شامل ہے ،لہذا ظہر اورعصر کی نماز قصر پڑھنے  کی صورت میں اس کا اعادہ واجب ہے۔

 

السفر الذي يتغير به الأحكام أن يقصد الإنسان مسيرة ثلاثة أيام ولياليها بسير الإبل ومشي الأقدام " لقوله عليه الصلاة والسلام " يمسح المقيم كمال يوم وليلة والمسافر ثلاثة أيام ولياليها " عمت الرخصة الجنس ومن ضرورته عموم التقدير...وإذا فارق المسافر بيوت المصر صلى ركعتين " لأن الإقامة تتعلق بدخولها فيتعلق السفر بالخروج عنها وفيه الأثر عن علي رضي الله عنه لو جاوزنا هذا الخص لقصرنا. (الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج: 1، ص: 80)

(قوله من خرج من عمارة موضع إقامته) أراد بالعمارة ما يشمل بيوت الأخبية لأن بها عمارة موضعها.قال في الإمداد: فيشترط مفارقتها ولو متفرقة وإن نزلوا على ماء أو محتطب يعتبر مفارقته كذا في مجمع الروايات، ولعله ما لم يكن محتطبا واسعا جدا اهـ وكذا ما لم يكن الماء نهرا بعيد المنبع، وأشار إلى أنه يشترط مفارقة ما كان من توابع موضع الإقامة كربض المصر وهو ما حول المدينة من بيوت ومساكن فإنه في حكم المصر وكذا القرى المتصلة بالربض في الصحيح، بخلاف البساتين، ولو متصلة بالبناء لأنها ليست من البلدة ولو سكنها أهل البلدة في جميع السنة أو بعضها، ولا يعتبر سكنى الحفظة والأكرة اتفاق إمداد. ( رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج: 2، ص: 121)


فتویٰ نمبر : 10734/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں