بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
تاریخی ،صحافتی یا تحقیقی مقاصد کے حصول میں کافر کی گواہی کی حیثیت
سوال
کیاتاریخی ،صحافتی یا تحقیقی مقاصد کے حصول کےلیے کسی غیر مسلم شخص کی زبانی شہادت لے سکتے ہیں اورکیا ایسی شہادت شریعت کے مطابق قابل قبول ہوگی؟
جواب
شریعت مطہرہ کی رو سے گواہ کی شرائط میں سے یہ ہےکہ گواہ مسلمان ہو کافر نہ ہو ،چنانچہ کافر کی گواہی مسلمان كےخلاف قابل قبول نہ ہوگی البتہ اپنے جیسے کافر کے خلاف اس کی گواہی قابل قبول ہے ،اسی طرح امور دینیہ یا کسی واقعے کی تحقیق حال کے بارے میں اس کی خبرتب قابل قبول ہوگی،جب اس کی خبر پر اطمینان ہو، بصورت دیگر اس کی خبر سے استفادہ کی گنجائش نہیں ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق تاریخی ،صحافتی یاتحقیقی مقاصد کے حصول کےلیے کسی غیر مسلم شخص کی زبانی خبر سے استفادہ کی گنجائش موجود ہےبشرطیکہ اس کی خبر قابل اطمینان ہو ورنہ قابل قبول نہ ہوگی۔
وقال تعالى: {يأيها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق بنبأ فتبينوا أن تصيبوا قوما بجهالة} ، واسم الفاسق يتناول الكافر وغيره بدلالة قوله سبحانه وتعالى: {أفمن كان مؤمنا كمن كان فاسقا لا يستوون} ، وقوله تعالى: {وأما الذين فسقوا فمأواهم النار} الآية. (مختصر الخلافيات للبيهقي، وشهادة الكافر عندنا مردودة في جميع الأحوال، ج: 5، ص: 151)
واتفق أهل العلم على جواز قبول خبر الفاسق في أشياء. فمنها: أمور المعاملات يقبل فيها خبر الفاسق، وذلك نحو الهدية... ونحو قوله: "وكلني فلان ببيع عبده هذا"... ونحو الإذن في الدخول... ويقبل قول الفاسق وشهادته من وجه آخر، وهو من كان فسقه من جهة الدين باعتقاد مذهب، وهم أهل الأهواء فساق وشهادتهم مقبولة... وتقبل أيضا شهادة أهل الذمة بعضهم على بعض... فهذه الوجوه الثلاثة يقبل فيها خبر الفاسق، وهو مستثنى من جملة قوله تعالى: {إن جاءكم فاسق بنبأ فتبينوا} لدلائل قد قامت عليه، فثبت أن مراد الآية في الشهادات، وإلزام الحقوق أو إثبات أحكام الدين والفسق التي ليست من جهة الدين والاعتقاد. (أحكام القرآن للجصاص، سورة الحجرات، الآية: 6، باب حكم خبر الفاسق، ج: 3، ص: 530)
وشهادة الكافر فيما يتضرر به المسلم لا تكون حجة. (المبسوط للسرخسي، كتاب المأذون الكبير، باب الشهادة على المأذون، ج: 26، ص: 38)
وفي الاشباه: لا تقبل شهادة كافر على مسلم إلا تبعا كما مر أو ضرورة في مسألتين: وفي الايصاء: شهد كافران على كافر أنه أوصى إلى كافر وأحضر مسلما عليه حق للميت.وفي النسب: شهدا أن النصراني ابن الميت فادعى على مسلم بحق، وهذا استحسان ووجهه في الدرر. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الشهادات، باب القبول وعدمه، ص: 487)
قال ابن رشد في المقدمات: ويكفي الشاهد الواحد فيما يبتدأ الحكم فيه بالسؤال، وفيما كان علما يؤديه...فيأخذ فيه بالمخبر الواحد وبقول الطبيب الذي ليس على الإسلام؛ لأنه ليس على جهة الشهادة، وإنما هو علم يأخذه الحاكم عمن يبصره ويعرفه، مرضيا كان أو مسخوطا واحدا كان أو اثنين. (تبصرة الحكام في أصول الأقضية ومناهج الأحكام، القسم الثاني من الكتاب في أنواع البينات، الباب الرابع عشر في القضاء بقول رجل بانفراده وما يجري مجرى ذلك، ج: 1، ص: 347)
وقال مالك: تجوز شهادة الطبيب الكافر حتى على المسلم للحاجة...قالوا: والكافر قد يكون عدلا في دينه بين قومه، صادق اللهجة عندهم، فلا يمنعه كفره من قبول شهادته عليهم إذا ارتضوه، وقد رأينا كثيرا من الكفار يصدق في حديثه، ويؤدي أمانته، بحيث يشار إليه في ذلك ويشتهر به بين قومه وبين المسلمين بحيث يسكن القلب إلى صدقه، وقبول خبره وشهادته ما لا يسكن إلى كثير من المنتسبين إلى الإسلام، وقد أباح الله سبحانه معاملتهم، وأكل طعامهم، وحل نسائهم، وذلك يستلزم الرجوع إلى أخبارهم قطعا، فإذا جاز لنا الاعتماد على خبرهم فيما يتعلق بنا من الأعيان التي تحل وتحرم، فلأن نرجع إلى أخبارهم بالنسبة لما يتعلق بهم من ذلك أولى وأحرى. (الطرق الحكمية في السياسة الشرعية، الطريق السابع عشر: الحكم بشهادة الكافر، احتجاج القابلين لشهادة الكفار بعضهم على بعض، ج: 1، ص: ,479481)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں