بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کفار کے حملوں سےبچوں میں پیدا ہونے والی کیفیات کودستاویزی شکل دینا


سوال

کفار کے حملوں کے  نتیجےمیں بچوں میں پیدا ہونے والے خوف ،بے خوابی اورذہنی صدمے کو تحریری  شکل میں محفوظ کرنا شرعا کیسا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ تمام مسلمانان عالم  ایک جسم کے مانند ہیں ،جس طرح جسم کے کسی ایک عضو میں بےقراری پیدا ہونے سےسارا جسم بے قرار رہتا ہےاسی طرح  مسلمانوں کو بھی اپنےدوسرے  مسلمان بھائیوں  کے رنج اور  تکلیف پر بے حسی اوربے توجہی کی بجائے ہمدردی اوربے چینی کامظاہرہ کرنا چاہیے  تاکہ وہ اپنے آپ کو اکیلا محسوس نہ کریں ،چنانچہ  اگر عملا ان کی مدد ممکن ہوتوان کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہونا چاہیے اوراگر عملا مدد کرنا ممکن نہ ہو یا اس میں دشواری ہوتو پھر ان کی  ضروریات زندگی  کاادراک کرکے ان کو مالی مدد پہنچانی چاہیے ،اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل میں ان کے درد وغم محسوس کرنابہر حال ایمان کا تقاضہ ہے،نیز ہر مسلمان کا مذہی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ ایسے حالات میں اپنے مسلمان بھائیوں کو خصوصی دعاؤں میں یاد کرے۔

لہذا ایسے حالات کے تناظر میں حق وسچ پر مشتمل  دستاویزات یارپورٹیں تیار کرنے اور ان  کو شائع کرنے کی گنجائش موجودہے  جن  میں ان مظلوم مسلمانوں کی حالت زار کو بیان کیا گیاہو تاکہ مسلمان خواب غفلت میں رہنے کی بجائے ہروقت ان کی طرف متوجہ رہیں اوروقتا فوقتا جانی اورمالی مدد پہنچانے کی کوشش کریں۔

 

عن النعمان بن بشير، قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "‌المؤمنون ‌كرجل ‌واحد. إن اشتكى رأسه، تداعى له سائر الجسد بالحمى والسهر. (صحيح مسلم، كتاب البر والصلة والآداب، باب تراحم المؤمنين وتعاطفهم وتعاضده، رقم الحديث: 2586، ج: 4، ص: 2000)

أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أخبره، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "‌المسلم ‌أخو ‌المسلم؛ لا يظلمه ولا يسلمه، ومن كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته، ومن فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه كربة من كربات يوم القيامة، ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيامة". (صحيح البخاري، كتاب المظالم، باب لا يظلم المسلم المسلم ولا يسلمه، رقم الحديث: 2455، ج: 3، ص: 380)


فتویٰ نمبر : 6465/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں