بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شہدا اورمظلومین کی یاد کو آنے والی نسلوں کےلیے محفوظ رکھنا


سوال

کیا شہداء اورمظلومین کی یاد کو آنے والی نسلوں کےلیے محفوظ کرنا دینی فریضہ ہے؟ کیا ایسے انٹرویو، جن میں ظلم ،شہادت یا جنگی مظالم کی تفصیلات محفوظ کی جاتی ہیں فریضہ کفایہ کےدرجے میں آسکتے ہیں، یعنی اگر کچھ لوگ یہ ذمہ داری اٹھالیں توباقی امت بری الذمہ ہوجاتی ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے تمام مسلمانانِ عالم ایک عمارت کے مانند ہیں جس طرح عمارت كا بعض حصہ دوسرے بعض حصہ کوقوت دلاتا  ہےاسی طرح ایک مسلمان  بھی   دوسرےکےلیےعملی زندگی میں   دست و بازو بنےگا، چنانچہ   ہر مسلمان پر واجب کہ وہ اپنے جان ومال ،میسر استعداد ات اوراسباب کو بروئے کار لاتے ہوئےحسب استطاعت  اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں بہنوں کی مدد کرےاور حتی الوسع ان  پر ہونے والے مظالم  کو روکنے کی کوشش کرکے اپنا دینی فریضہ انجام دے۔ آج کل کے حوالے سے پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا ،سوشل میڈیا یاانٹرنیٹ کے وسیع پلیٹ فارمز کےذریعے سے مظلوم مسلمانوں کےلیےآواز بلند کرنا ،ظالم کے کرتوتوں کو بے نقاب کرنا اوردنیاے عالم کو مظلوموں  کی مدد،ہمدردی اورخیر خواہی کی طرف  متوجہ کرنا مسلمانوں کا اجتماعی مذہبی اور اخلاقی فریضہ ہے۔

اسی طرح  شہدا اورمظلوموں  کی یاد کوآنے والی نسلوں کےلیے محفوظ کرنا بھی ایک مفید مشغلہ ہے، تاکہ آئندہ نسلیں ان کی قربانیوں سے سبق سیکھ سکیں۔

 

قال الله تبارك وتعالى: ﴿وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ﴾ [الشعراء: 84] 

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (‌انصر ‌أخاك ‌ظالما أو مظلوما). قالوا: يا رسول الله، هذا ننصره مظلوما، فكيف ننصره ظالما؟ قال: (تأخذ فوق يديه)... عن أبي موسى رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (المؤمن للمؤمن كالبنيان، يشد بعضه بعضا). وشبك بين أصابعه. (صحيح البخاري، كتاب المظالم، باب: أعن أخاك ظالما أو مظلوما، رقم الحديث: 2314، 2312، ج: 2، ص: 863)

عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال "‌لا ‌يلدغ المؤمن، من جحر واحد، مرتين". (صحيح مسلم، كتاب الزهد والرقائق، باب لا يلدغ المؤمن من جحر مرتين، رقم الحديث: 2998، ج: 4، ص: 2295)

وقد قال تعالى [‌لا ‌يحب ‌الله ‌الجهر ‌بالسوء من القول إلا من ظلم] وقد أمر الله تعالى بلعن الكفار والبراءة منهم والإنكار على أهل المعاصي وهذا مما لا يختلف فيه شرائع الأنبياء عليهم السلام. (أحكام القرآن للجصاص، سورة البقرة، الآية: 83، ج: 1، ص: 47)

قوله تعالى: (‌لا ‌يحب ‌الله ‌الجهر ‌بالسوء من القول) وتم الكلام. ثم قال جل وعز" إلا من ظلم" استثناء ليس من الأول في موضع نصب، أي لكن من ظلم فله أن يقول ظلمني فلان...وإن كان كافرا فأرسل لسانك وادع بما شئت من الهلكة وبكل دعاء، كما فعل النبي صلى الله عليه وسلم حيث قال: (اللهم اشدد وطأتك على مضر واجعلها عليهم سنين كسني يوسف) وقال: (اللهم عليك بفلان وفلان) سماهم. وإن كان مجاهرا بالظلم دعي عليه جهرا، ولم يكن له عرض محترم ولا بدن محترم ولا مال محترم. (الجامع لأحكام القرآن، سورة النساء، الآيات: 148 إلى 149، ج: 6، ص: 2)


فتویٰ نمبر : 6466/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں