بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مخبِر کے بیان میں اختلاف اورتضاد کا حکم


سوال

اگر کسی انٹرویودینے والے کی یادداشت واضح نہ ہو یا اس میں تضاد پایاجائے تو ایسی صورت میں  شرعی اصول کیا رہنمائی دیتے ہیں؟ کیا تاریخی،صحافتی یاتحقیقی مقاصد کے حصول کےلیے ایسی گواہی کوجزوی طور پر قبول کیا جاسکتا ہے؟نیز یہ بتائیں اگر کوئی ناخواندہ ہو تو کیا زبانی رضامندی شہادت کے ریکارڈ کرنے کےلیے کافی ہے یا شریعت میں اس کی اجازت  کےلیے کسی تیسرے گواہ یا ضامن کا ہونا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی مخبر(خبر دینے والے) کی خبر مقبول ہونے کےلیے ضروری ہےکہ وہ قابل اعتبار  ہو، نیز اس کی خبر تضادات واختلافات سے پاک ہو۔

لہذا  اگر  انٹرویودینے والےکی یادداشت واضح نہ ہوجس کی بنا پر اس کی خبر میں تضاد اورتناقض واقع ہوتو کسی واقعے کی تحقیق حال کےلیےنہ  ایسی خبر  قابل قبول ہے اورنہ ہی اس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے، لہذا انٹرویو لینے والے کوباعتماد ذرائع کے ساتھ واقعے کی نوعیت اور واقعی حالات تک رسائی کی کوشش کرنی چاہیے  اور جب تک دیگر قرائن کےساتھ ایسی خبر کی تائید نہ ہوجائے تو اس  کو قبول کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔نیز اگر کوئی گواہ  اپنی گواہی کو لکھنے پر قادر نہ ہوتو بغیر کسی تیسرے گواہ یا ضامن بنانے کےاس کی زبانی خبر بھی کسی واقعے  کے بارے میں قبول کی جاسکتی ہےبشرطیکہ مخبر قابل اطمینان ہو۔

 

والشهادة لغة، إخبار قاطع، وفي عرف أهل الشرع ‌إخبار ‌صدق لإثبات حق بلفظ الشهادة في مجلس القضاء فتخرج شهادة الزور فليست شهادة. (فتح القدير للكمال بن الهمام، كتاب الشهادات، ج: 7، ص: 364)

الشهادات غير المقبولة هي: [منها:] 13 - الشهادة الموجبة للتناقض (البهجة)...[ومنها:] 20 - الشهادة التي يختلف الشهود فيها بالمشهود به. 1 - 2 - الشهادة المتعلقة بالمشهود به والموجبة للاختلاف في المشهود به. درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الكتاب الخامس عشر البينات والتحليف، الباب الأول في حق الشهادة، ‌‌الفصل الأول في تعريف الشهادة ونصابها، ج: 4، ص: 362)

فقوله ممن ترضون من الشهداء فقد انتظم الأمرين من العدالة والتيقظ وذكاء الفهم وشدة الحفظ... وذلك لقوله عز وجل: {‌إن ‌جاءكم ‌فاسق ‌بنبأ فتبينوا} [الحجرات: 6] وذلك عموم في إيجاب التثبت في سائر أخبار الفساق، والشهادة خبر، فوجب التثبت فيها إذا كان الشاهد فاسقا. فلما نص الله على التثبت في خبر الفاسق وأوجب علينا قبول شهادة العدول المرضيين وكان الفسق قد يعلم من جهة اليقين والعدالة لا تعلم من جهة اليقين دون ظاهر الحال علمنا أنها مبنية على غالب الظن وما يظهر من صلاح الشاهد وصدق لهجته وأمانته، وهذا وإن كان مبنيا على أكثر الظن فهو ضرب من العلم. (أحكام القرآن للجصاص، سورة البقرة، الآية: 282، ‌‌باب الشهود، ج: 1، ص: 616)

قال أبو بكر مقتضى الآية إيجاب التثبت في خبر الفاسق والنهي عن الإقدام على قبوله، والعمل به إلا بعد التبين والعلم بصحة مخبره; وذلك لأن قراءة هذه الآية على وجهين: "فتثبتوا" من التثبت و، {فتبينوا} ، كلتاهما يقتضي النهي عن قبول خبره إلا بعد العلم بصحته; لأن قوله: "فتثبتوا" فيه أمر بالتثبت لئلا يصيب قوما بجهالة، فاقتضى ذلك النهي عن الإقدام إلا بعد العلم لئلا يصيب قوما بجهالة. وأما قوله: {فتبينوا} فإن التبين هو العلم، فاقتضى أن لا يقدم بخبره إلا بعد العلم، فاقتضى ذلك النهي عن قبول شهادة الفاسق مطلقا; إذ كان كل شهادة خبرا، وكذلك سائر أخباره فلذلك قلنا شهادة الفاسق غير مقبولة في شيء من الحقوق، وكذلك إخباره في الرواية عن النبي صلى الله عليه وسلم وكل ما كان من أمر الدين يتعلق به من إثبات شرع أو حكم أو إثبات حق على إنسان.(أحكام القرآن للجصاص، سورة الحجرات، الآية: 6، باب حكم خبر الفاسق، ج: 3، ص: 530)

فإن قضى بما يغلب على الظن لم يكن ذلك عملا بجهالة، كالقضاء بالشاهدين العدلين، وقبول قول العالم المجتهد. وإنما العمل بالجهالة قبول قول من لا يحصل غلبة الظن بقبوله. ذكر هذه المسألة القشيري، والذي قبلها المهدوي. ( الجامع لأحكام القرآن، سورة الحجرات، الآية: 6، ج: 16، ص: 313)


فتویٰ نمبر : 6467/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں