بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کافروں کے حملے سےمرنے والےمسلمانوں کو شہید کہنا


سوال

اگر کافروں کے حملے کے نتیجے میں مجاہدین اورعام شہری  دونوں مرجائیں تو کیا شرعا ان سب کو شہداء شمار کیا جائے گایا اس کے لیے الگ کوئی اصول ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شہید ہر اس مسلمان کوکہا جاتا ہےجوکفار،باغیوں یا  راہزنوں کے ہاتھوں ناحق   قتل کیا جائے،اوراس قتل کی وجہ سےکوئی مالی  تاوان دیت وغیرہ واجب نہ ہویاوہ  مسلمان جوکفار کے مقابلے میں میدان جنگ   میں مردہ حالت میں پایا جائے جبکہ اس کے بدن  پر چوٹ یا زخم  کےنشانات بھی ہوں،چنانچہ جومسلمان مندرجہ بالا طریقوں میں سےکسی طریقے سے قتل  کیا جائے تووہ  شریعت کی نگاہ میں شہید کہلاتا  ہے، اوراس پر تجہیز وتکفین کے حوالے سےشہید ہی کے احکام جاری ہوں گے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کافروں کے حملےکے نتیجے میں  بہت سےمسلمان  مرجائیں جن میں مجاہدین بھی ہوں اورغیر مجاہدین بھی ، توشرعا یہ  تمام مسلمان شہید کہلائیں گے،چنانچہ ان سب پر شہدا کے احکام جاری ہوں گے۔

 

قال الله تبارك وتعالى: ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ ﴾ [البقرة: 154] 

‌الشهيد ‌فعيل ‌بمعنى ‌مفعول، ‌لانه ‌مشهود ‌له ‌بالجنة، ‌أو ‌فاعل ‌لانه ‌حي ‌عند ‌ربه ‌فهو ‌شاهد. (‌هو ‌كل ‌مكلف ‌مسلم ‌طاهر...قتل ظلما) بغير حق (بجارحة) أي بما يوجب القصاص (ولم يجب بنفس القتل مال) بل قصاص، حتى لو وجب المال بعارض كالصلح، أو قتل الاب ابنه لا تسقط الشهادة (ولم يرتث) فلو ارتث غسل كما سيجئ (وكذا) يكون شهيدا (لو قتله باغ أو حربي أو قاطع طريق، ولو) تسببا أو (بغير آلة جارحة) فإن مقتولهم شهيد بأي آلة قتلوه، لان الاصل فيه شهداء أحد ولم يكن كلهم قتيل سلاح (أو وجد جريحا ميتا في معركتهم). (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الصلاة، باب الشهيد، ص: 124)

الشهيد من قتله المشركون أو وجد في المعركة وبه أثر أو قتله المسلمون ظلما ولم يجب بقتله دية فيكفن ويصلى عليه ولا يغسل " لأنه في معنى شهداء أحد وقال صلى الله عليه وسلم فيهم " زملوهم بكلومهم ودمائهم ولا تغسلوهم " فكل من قتل بالحديدة ظلما وهو طاهر بالغ ولم يجب به عوض مالي فهو في معناهم فيلحق بهم والمراد بالأثر الجراحة لأنها دلالة القتل. (الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب الصلاة، باب الشهيد، ج: 1، ص: 92)


فتویٰ نمبر : 6468/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں