بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
سجدے پر قدرت ہونے کے باوجود کرسی پر نماز پڑھنا
سوال
اگر کوئی شخص عذرِ مرض یا بڑھاپے کی وجہ سے قیام پر قادر نہیں ہے، لیکن وہ جلوس اور سجود علی الارض پر قادر ہے، تو ایسی حالت میں کیا اس کے لیے کرسی پر نماز پڑھنا درست ہے اگر وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو لازماً سجدہ محض اشارے سے کرے گا، حالانکہ اس کو زمین پر سجدہ کرنے کی قدرت حاصل ہے، تو ایسی صورت میں کیا اس کی نماز صحیح ہوگی؟ مہربانی فرما کر شرعی راہنمائی فرمائیں۔
جواب
جو شخص زمین پر بیٹھ کر سجدہ کرسکتا ہےلیکن قیام پر قادر نہیں یا ایک بار بیٹھ کردوبارہ اٹھنے پر قادر نہیں۔تو اس کےلیے زمین پر بیٹھ کر سجدہ کرنا لازم ہے ،کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے سجدہ کرنا جائزنہیں۔
إذا عجز المريض عن القيام صلى قاعدا يركع ويسجد...وإن كان بجبهته جرح لا يستطيع السجود عليه لم يجزئه الإيماء وعليه أن يسجد على أنفه، وإن لم يسجد على أنفه وأومأ لم تجز صلاته۔(الفتاوى الهندية ،كتاب الصلوة،الباب الرابع عشر في صلاة المريض،ج:1،ص:136)
إذا عجز المريض عن القيام صلى قاعدا يركع ويسجد " لقوله عليه الصلاة والسلام لعمران بن حصين رضي الله عنه " صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى الجنب تومئ إيماء " ولأن الطاعة بحسب الطاقة.قال:" فإن لم يستطع الركوع والسجود أومأ إيماء " يعني قاعدا لأنه وسع مثله " وجعل سجوده أخفض من ركوعه " لأنه قائم مقامهما فأخذ حكمهما " ولا يرفع إلى وجهه شيئا يسجد عليه " لقوله عليه الصلاة والسلام " إن قدرت أن تسجد على الأرض فاسجد وإلا فأوم برأسك " فإن فعل ذلك وهو يخفض رأسه أجزأه لوجود الإيماء.(الهداية، كتاب الصلاة ،باب صلاة المريض،ج:1،ص:77)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں