بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

كسی امام کے پیچھے نماز پڑھنے پر طلاق کو معلق کرکے اسی امام کے پیچھے نماز جنازہ ادا کرنا


سوال

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ: اگر میں نے فلاں امام کے پیچھے نماز پڑھی تو میری بیوی مجھ پر طلاق، پھر وہ اسی امام کے پیچھے نماز جنازہ ادا کرے، تو کیا اس صورت میں طلا ق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نماز کا اطلاق شرعاً صرف رکوع وسجدہ والی فرض یا نفل نماز پر ہوتا ہے، فقہائے احناف کے نزدیک نماز جنازہ یا سجدہ تلاوت پر نماز کا اطلاق نہیں ہوتا۔ کیونکہ نماز جنازہ دراصل  میت کے لیے مغفرت کی دعا ہے، اس لیے اگر کوئی شخص قسم کھائے کہ وہ نماز نہیں پڑھائے گا، اور پھر وہ نماز جنازہ پڑھا دے تو وہ قسم توڑنے والا(حانث) شمار نہیں ہوگا۔

لہٰذاصورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص یہ کہے کہ: "اگر میں نے فلاں امام کے پیچھے نماز پڑھی تومجھ پر میری بیوی طلاق ہوگی" تو چونکہ نماز کا اطلاق رکوع وسجدہ والی نماز (فرض یا نفل) پر ہوتا ہے، نہ کہ نماز جنازہ پر، اس لیے اگر وہ شخص اسی امام کے پیچھے نماز جنازہ ادا کرے، تو اس سے طلاق واقع نہ ہوگی۔

 

ولو حلف أن لا يؤم أحدا فاقتدى به إنسان صح الاقتداء. وهل يحنث؟ قال في الخانية: يحنث قضاء لا ديانة إلا إن أشهد قبل الشروع فلا يحنث قضاء، وكذا لو أم الناس هذا الحالف في صلاة الجمعة صحت وحنث قضاء، ‌ولا ‌يحنث ‌أصلا ‌إذا ‌أمهم ‌في ‌صلاة ‌الجنازة ‌وسجدة ‌التلاوة. (الأشباه والنظائر لابن نجيم، القاعدة الأولى: لاثواب إلا بالنية، ص:18)

‌رجل ‌حلف ‌أن ‌لا ‌يؤم ‌أحدا فافتتح الصلاة لنفسه ونوى أن لا يؤم أحدا فجاء قوم واقتدوا به حنث (قضاء،) لا ديانة.....ولو أم الناس في صلاة الجنازة وسجدة التلاوة لا يحنث؛ لأن يمينه تنصرف إلى الصلاة المطلقة وهي المكتوبة أو النافلة وصلاة الجنازة ليست بصلاة مطلقة ولو حلف أن لا يؤم فلانا لرجل بعينه فصلى ونوى أن يؤم الناس فصلى ذلك الرجل مع الناس خلفه حنث الحالف وإن لم يعلم به، كذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوى الهندية، كتاب الأيمان، الباب التاسع في اليمين في الحج والصلاة والصوم، ج:2، ص:121)

(ومصلي الجنازة ينوي الصلاة لله تعالى، و) ينوي أيضا (الدعاء للميت) لأنه الواجب عليه فيقول أصلي لله داعيا للميت. وقال ابن عابدين الشامي:(قوله لأنه الواجب عليه) كذا قاله الزيلعي وتبعه في البحر والنهر، ووجهه ما ذهب إليه المحقق ابن الهمام حيث قالوا: المفهوم من كلامهم أن أركانها الدعاء والقيام والتكبير، لقولهم إن حقيقتها هي الدعاء وهو المقصود منها. اهـ. وفي النتف هي في قول أبي حنيفة وأصحابه دعاء على الحقيقة ‌وليست ‌بصلاة ‌لأنه ‌لا ‌قراءة ‌فيها ‌ولا ‌ركوع ‌ولا ‌سجود اهـ فحيث كان حقيقتها الدعاء كان وجوبها باعتبار الدعاء فيها. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، ج:1، ص:423)


فتویٰ نمبر : 3934/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں