بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
اپنی ماں کے علاوہ والد کی دوسری بیوی کے نفقہ کا حکم
سوال
میرے والد صاحب نے میری والدہ کو طلاق دینے کے بعد دوسری شادی کر لی اور ہم سے بھی علیحدہ ہو گئے مگر ہمارے خرچے پورے کرتے رہے سب بہن بھائیوں کو اچھی تعلیم دلوائی اور شادیاں بھی کروائیں۔تب سے اب تک ہم دادا ابو پاس ہی رہتے ہیں ۔اب ابو فوت ہو گئے ہیں اور ہماری سوتیلی ماں نے دوسری شادی کر لی بدقسمتی سے وہ زیادہ دیر نہ چل سکی اور وہاں سے ان کو طلاق ہو گئی؟اب بھی کیا وہ ہمارے والد کی بیوہ کہلاۓ گی؟ کیا والد کی بیوہ اور ہماری سوتیلی ماں ہونے کے ناطے اس کے اخراجات ہمارے ذمے ہوں گے؟ویسے وہ خود جاب کرتی ہے۔میں اب یہ جاننا چاہتا ہوں کہ شریعت کے مطابق ہمارے کیا فرائض ہیں۔گھر والے سارے یہی کہہ رہے ہیں کہ جب تک وہ ابو کی بیوہ تھیں تب تک ہماری ذمہ داری تھی مگر چونکہ انہوں نے شادی کر لی تھی اب ہماری کوئی ذمہ داری نہیں رہی مگر میرا دل نہیں مانتا مجھے یہی لگتا ہے کہ تھی تو وہ ہمارے ابو کی بیوی ہی اسی لیے ہمارا ہی حق بنتا ہے۔
جواب
واضح رہے کہ اپنی ماں کے علاوہ والد کی دوسری بیوی اگر ہو اور والد فوت ہو جائے تو اس کی دوسری بیوی کا نفقہ لازم نہیں ہو تا ۔
لہذا صورت مسؤلہ کےمطابق صرف باپ کے منکوحہ ہونے کی بنا پر مذکورہ خاتون کا نان نفقہ اس کے فوت شدہ شوہر کی اولاد پر لازم نہیں البتہ اپنی وسعت کے مطابق اس کے ساتھ حسن وسلوک بہر حال باعث اجر وثواب ہے ۔
(قوله و لأبويه و أجداده و جداته لو فقراء) أي تجب النفقة لهؤلاء أما الأبوان فلقوله تعالى (و صاحبهما في الدنيا معروفا) أنزلت في الأبوين الكافرين و ليس من المعروف أن الابن يعيش في نعم الله تعالى و يتركهما يموتان جوعا…… و شرط الفقر؛ لأنه لو كان ذا مال فإيجاب النفقة في ماله أولى من إيجابها في مال غيره. (البحرائق،کتاب الطلاق،باب النفقات،نفقۃ الابوین ولاجداد والجدات،ج:3،ص:224)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں