بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

مدرسے کے سولر سسٹم سے گھر کو بجلی دینا


سوال

ایک شخص نے ہمارے مدرسے میں سولر سسٹم لگایاہے، مدرسے کے قریب ایک گھر ہے جس میں بجلی کی ضرورت ہے، کیا ہم اُس شخص (جس نے سولر سسٹم لگایا ہے) کی اجازت سے اس سولر سسٹم سے بجلی مدرسے کے قریب اس گھر والوں کو دے سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جس مصرف کے لیے کوئی چیز وقف کی جائے، وہ اسی مصرف  کے لیے استعمال ہوگی، اسے دوسرے مقاصد میں استعمال کرنا جائز نہیں۔ البتہ اگر واقف نے وقف کرتے وقت دیگر مصارف میں  استعمال کرنے کی اجازت دی ہو، تواس کااستعمال  دوسرے مقاصد کے لیے بھی جائز ہوگا۔ نیز وقف کرنے کے بعد موقوفہ چیز واقف کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اس لیے  وقف کرنے کے بعدواقف کی اجازت کا کوئی اعتبار نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقف نے مدرسہ کے لیے سولر سسٹم وقف کرتے وقت اس کی بجلی قریبی گھر والوں کو دینے کی اجازت دی تھی، تو اب وقف شدہ سولر سسٹم سے انہیں بجلی فراہم کرنےکی گنجائش ہے، تاہم مدرسے کی ضروریات کو مقدم رکھا جائے گا۔ لیکن اگر واقف نے وقف کرتے وقت دیگر مصارف میں استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تھی، تو اب واقف کی اجازت کا کوئی اعتبار نہیں۔ لہٰذا مدرسہ سے باہرکسی گھر والے کو وقف شدہ سولر سسٹم سے بجلی دینا جائز نہ ہوگا۔

 

(فإذا تم ولزم ‌لا‌يملك ‌ولا ‌يعار ‌ولا ‌يرهن). (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الوقف، ج:4، ص:351-352)

(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه، ولا يعار، ولا يرهن لاقتضائهما الملك درر؛ ويستثنى من عدم تمليكه ما لو اشترط الواقف استبداله وسيأتي الكلام عليه. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، ج:4، ص:352)

‌اعلم ‌أن ‌الاستبدال ‌على ‌ثلاثة ‌وجوه: الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره، فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. والثالث: أن لا يشرطه أيضا ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعا ونفعا، وهذا لا يجوز استبداله على الأصح المختار. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، مطلب في استبدال الوقف وشروطه، ج:4، ص:384)


فتویٰ نمبر : 6462/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں