بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

احکام امامت و زکوۃ


سوال

محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته ہمارے علاقے کی مسجد میں ایک امام تقریباً بارہ تیرہ سال سے امامت کے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ اس عرصہ میں امام کی بعض حرکات و کردار کی وجہ سے اہلِ محلہ شدید انتشار و افتراق کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہاں تک کہ لوگ باہم دشمنیوں میں مبتلا ہو گئے ہیں، بھائی بھائی کا دشمن بن چکا ہے اور لوگ ایک دوسرے کو سلام تک کرنا چھوڑ بیٹھے ہیں۔ اب ہم اس سنگین صورتِ حال میں شرعی رہنمائی کے طالب ہیں۔ تفصیل درج ذیل ہے: مسئلہ نمبر (۱) امام نے علاقے کے بعض شرپسند افراد کے ساتھ مل کر اہلِ علاقہ کے مشورے کے بغیر مسجد کی کمیٹی رجسٹر کروائی اور اس میں خود کو نائب صدر درج کرا لیا۔ یہ تمام معاملہ اہلِ علاقہ سے چھپایا گیا۔ بعد ازاں جب حقیقت کھلی تو اہلِ علاقہ نے اعلیٰ حکام کے سامنے معاملہ پیش کیا اور وہ جعلی کمیٹی منسوخ کروا دی۔ مزید یہ بھی معلوم ہوا کہ امام نے گزشتہ 13 برس سے اپنا اصل نام چھپایا ہوا تھا اور ایک فرضی نام سے امامت کرتا رہا ہے۔ اس کا اصل نام اہلِ علاقہ کو اُس وقت معلوم ہوا جب جعلی کمیٹی کی رجسٹریشن والے کاغذات ان کے ہاتھ لگے۔ امام اور اس کے ساتھی کمیٹی ممبران نےمسجد میں نمازیوں پر تشدد کیا، جس کے نتیجے میں کئی نمازی شدید زخمی ہوئے اور ان کے خلاف نامزد ایف آئی آر درج ہوئی۔ امام ان معاملات میں فریق بن کر تھانوں اور سرکاری دفاتر میں پیش ہوتا رہا اور کھلے عام جھوٹ بولتا رہا۔ ان تمام حالات کے نتیجے میں محلے کے اندر شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ دو تہائی اہلِ علاقہ نے اس امام کے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی ہے اور دوسری مساجد میں جا کر نماز ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ: کیا ایسے فسادی، جھوٹے اور دھوکہ باز امام کے پیچھے نماز پڑھنا شرعاً درست ہے؟ جب کہ اس کا کردار جھوٹ، فریب، فتنہ انگیزی اور نمازیوں پر ظلم و تشدد سے عبارت ہے؟ مسئلہ نمبر (۲) امام نے اپنے گھر پر مدرسہ کے نام سے بورڈ آویزاں کر رکھا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ وہاں کوئی رہائشی یا غیر رہائشی طلبہ ہیں اور نہ ہی کوئی باقاعدہ تعلیمی نظام موجود ہے۔ صرف دو تین کم عمر بچیاں ناظرہ پڑھنے آتی ہیں۔ اس کے باوجود امام گزشتہ 13 سال سے علاقے کے لوگوں سے باقاعدگی کے ساتھ زکوٰۃ وصول کرتا رہا ہے۔ ان تمام معاملات کے بعد اہلِ علاقہ کو سخت تشویش ہوئی۔ تحقیق کرنے پر یہ حقیقت سامنے آئی کہ نہ تو اس کا ادارہ مصرفِ زکوٰۃ ہے اور نہ ہی اس نے اہلِ علاقہ کی زکوٰۃ صحیح مصرف پر خرچ کی۔ بلکہ یہ بھی ثابت ہوا کہ زکوٰۃ اور چندے کی رقوم جعلی کمیٹی کی رجسٹریشن، تھانوں اور عدالتوں کے مقدمات، رشوت اور دیگر غیر شرعی و ناجائز مصارف میں استعمال کی گئیں، جو سراسر مصرفِ زکوٰۃ نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ: گزشتہ سالوں میں اس امام کو دی گئی زکوٰۃ شرعاً ادا ہوئی یا نہیں؟ اگر ادا نہیں ہوئی تو کیا ان تمام سالوں کی زکوٰۃ دوبارہ ادا کرنا لازم ہوگی؟ محترم مفتی صاحب! قرآن و سنت اور ائمہ کرام کی آراء کی روشنی میں اس سنگین صورتِ حال پر واضح شرعی رہنمائی فرمائیں تاکہ اہلِ علاقہ اطمینان قلب کے ساتھ اپنے دینی فرائض کی ادائیگی اور مسجد و محلے میں دینی نظم کے قیام کے حوالے سے درست فیصلہ کر سکیں۔ جزاکم اللہ خیراً سائل: محمد عبداللہ(ظفر کالونی بلاک سی سرگودھا،پاکستان)

جواب

اس سوال کے جواب سے معذرت کی جاتی ہے 

 


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں