بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایجاب وقبول کے بعد بیع ختم کرنا


سوال

زید نے خالد پر  ایک متعین زمین فروخت  کر کے ایجاب وقبول کی لیکن  زمین حوالہ نہ کیا اور نہ ہی ثمن وصول کیا بلکہ اپنے  عقدِ بیع پر پشمان ہو کر حامد کے ساتھ عقدِ بیع کیا اور ساتھ میں مبیع حوالہ کرکے ثمن وصول کیا۔اب زید نے خالد کے ساتھ جو عقد کیا تھا اس کو فسخ کرنے کا اسے اختیار حاصل ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جب بائع اور مشتری کے درمیان ایک مرتبہ ایجاب اور قبول ہوجائے  تو بیع تام ہوجاتی ہےاس کے بعددونوں میں سے کسی کویکطرفہ طور پر دوسرے کی رضامندی کے بغیر بیع ختم  کرنے کا حق  حاصل نہیں ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جب  عاقدین(زید،خالد)کے درمیان ایجاب و قبول ہوچکا ہے،اگرچہ  زید نے زمین  حوالہ  نہ کی ہو اور نہ ہی ثمن وصول کیا ہو،تو اب بائع(زید)مشتری(خالد)کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر سابقہ بیع کو ختم کرکے آگے نہیں بیچ سکتا،البتہ اگر خریدار اقالہ کرے یعنی گزشتہ بیع ختم کرنےپر راضی ہوجائےتو دونوں کی رضامندی سے گزشتہ بیع ختم ہوسکتی ہے۔

 

وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهماإلامن عيب أوعدم رؤية.(الهداية،کتاب البیوع،ج:5،ص:6)

وأما حكمه فثبوت الملك في المبيع للمشتري وفي الثمن للبائع إذا كان البيع باتا.(الفتاوى الهندية،كتاب البيوع،ألباب الأول في تعريف البيع وركنه ج:3،ص:3)

شرط صحة الإقالة رضا المتقائلين.(الفتاوى الهندية،کتاب البیوع،الباب الثالث عشر في الٕاقالة،ج:3،ص:157)


فتویٰ نمبر : 3932/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں