بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ہوٹل کا کمرہ استعمال نہ کرنے کی صورت میں کرایہ کی واپسی


سوال

ایک شخص نےہوٹل میں کمرہ بک کرایا اس کا کرایہ بھی جمع کرادیا،لیکن کمرہ استعمال نہیں کیا توکیا  ہوٹل کا مالک کرا یہ کی یہ رقم واپس کرنے کا پابند ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر ہوٹل یا کمرے کامالک کمرہ خالی کرکے اس کے استعمال کے مکمل اختیارات گاہک کو دےدے ، تو اجرت واجب ہوگی خواہ گاہک  فائدہ اٹھائےیا نہیں۔لیکن اگر مالک نے مکمل طور پر استعمال کا حق نہ دیا تو کرایہ واجب نہیں ہوگا، اور اس صورت میں کرایہ دار کو رقم واپس لینے کا حق حاصل ہوگا۔

لہذاصورت مسئولہ کے مطابق کمرہ بک کروانے کے بعد اگر ہوٹل کے مالک نے کمرہ استعمال کرنے کے مکمل اختیارات اس کو دے دیے اور اس کے باوجود اس نے کمرہ استعمال نہیں کیا ،تو ہوٹل کے مالک پر اس آدمی کو رقم واپس کرنا ضروری نہیں اور نہ ہی شرعاً کوئی اس رقم کا مطالبہ کر سکتا ہے،البتہ اگر ہوٹل کے مالک نے کمرہ استعمال کرنے کے مکمل اختیارات اس بندے کو نہیں دیے کہ وہ اس سے فائدہ حاصل کرسکے،تو اس صورت میں اس کےلئے اس رقم کا مطالبہ کرنا جائز ہے۔

 

(ﺃﻭ اﻻﺳﺘﻴﻔﺎء)ﻟﻠﻤﻨﻔﻌﺔ (ﺃﻭ ﺗﻤﻜﻨﻪ ﻣﻨﻪ) ﺇﻻ ﻓﻲ ﺛﻼﺙ ﻣﺬﻛﻮﺭﺓ ﻓﻲ اﻷﺷﺒﺎﻩ.ﺛﻢ ﻓﺮﻉ ﻋﻠﻰ ﻫﺬا ﺑﻘﻮﻟﻪ (ﻓﻴﺠﺐ اﻷﺟﺮ ﻟﺪاﺭ ﻗﺒﻀﺖ ﻭﻟﻢ ﺗﺴﻜﻦ) ﻟﻮﺟﻮﺩ ﺗﻤﻜﻨﻪ ﻣﻦ اﻻﻧﺘﻔﺎﻉ.(ﻗﻮﻟﻪ ﺃﻭ ﺗﻤﻜﻨﻪ ﻣﻨﻪ) ﻓﻲ اﻟﻬﺪاﻳﺔ: ﻭﺇﺫا ﻗﺒﺾ اﻟﻤﺴﺘﺄﺟﺮ اﻟﺪاﺭ ﻓﻌﻠﻴﻪ اﻷﺟﺮﺓ ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﺴﻜﻦ.ﻗﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﻨﻬﺎﻳﺔ: ﻭﻫﺬﻩ ﻣﻘﻴﺪﺓ ﺑﻘﻴﻮﺩ: ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ اﻟﺘﻤﻜﻦ، ﻓﺈﻥ ﻣﻨﻌﻪ اﻟﻤﺎﻟﻚ ﺃﻭ اﻷﺟﻨﺒﻲ ﺃﻭ ﺳﻠﻢ اﻟﺪاﺭ ﻣﺸﻐﻮﻟﺔ ﺑﻤﺘﺎﻋﻪ ﻻ ﺗﺠﺐ اﻷﺟﺮﺓ.(ردالمختار علی الدرالمختار،کتاب الإ جارۃ،ج:6،ص:10)

ﻭﻣﻨﻬﺎ: ﺑﻴﺎﻥ اﻟﻤﺪﺓ ﻓﻲ ﺇﺟﺎﺭﺓ اﻟﺪﻭﺭ ﻭاﻟﻤﻨﺎﺯﻝ، ﻭاﻟﺒﻴﻮﺕ، ﻭاﻟﺤﻮاﻧﻴﺖ، ﻭﻓﻲ اﺳﺘﺌﺠﺎﺭ اﻟﻈﺌﺮ؛ ﻷﻥ اﻟﻤﻌﻘﻮﺩ ﻋﻠﻴﻪ ﻻ ﻳﺼﻴﺮ ﻣﻌﻠﻮﻡ اﻟﻘﺪﺭ ﺑﺪﻭﻧﻪ، ﻓﺘﺮﻙ ﺑﻴﺎنه ﻳﻔﻀﻲ ﺇﻟﻰ اﻟﻤﻨﺎﺯﻋﺔ، ﻭﺳﻮاء ﻗﺼﺮﺕ اﻟﻤﺪﺓ ﺃﻭ ﻃﺎﻟﺖ ﻣﻦ ﻳﻮﻡ ﺃﻭ ﺷﻬﺮ ﺃﻭ ﺳﻨﺔ ﺃﻭ ﺃﻛﺜﺮ ﻣﻦ ﺫﻟﻚ ﺑﻌﺪ ﺃﻥ ﻛﺎﻧﺖ ﻣﻌﻠﻮﻣﺔ، ﻭﻫﻮ ﺃﻇﻬﺮ ﺃﻗﻮاﻝ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ. .(بدائع الصنائع،کتاب الإجارۃ،فصل فی شرائط الرکن،ج:5،ص:542)


فتویٰ نمبر : 3929/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں