بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں خوشبو کا ناک میں،اور دھوئے کا حلق میں جانا


سوال

اگر کوئی شخص روزہ سےہو اور اس حالت میں خوشبو ناک میں چلی جائے یا دھواں حلق میں چلاجائے تو ایسےروزے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ صرف خوشبو سونگھنا جیسے کہ عود، مسک یا گلاب وغیرہ اور اس خوشبو یا بدبو ناک میں جانے سے روزہ میں کوئی فرق نہیں آتا،البتہ دھواں اگر حلق سے نیچے اتارا جائے ،تو اس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے،سوائے اس دھواں اور گردوغبار کے جن سے بچنا ممکن نہ ہو۔

لہذا صورت مسؤلہ میں اگر روزہ دار خوشبو کو سونگھ لے یا اس کے حلق میں گرد و غباراور دھواں  غیر ارادی طور پر داخل ہو جائے تو روزہ فاسد نہیں ہوتا، کیونکہ اس سے بچنا عام طور پر ممکن نہیں، لیکن اگر کوئی شخص جان بوجھ کر دھواں اندر لے، چاہے وہ خوشبودار بخور ہو یا عام دھواں جیسے سگریٹ وغیرہ، تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔

 

(أو دخل حلقه غبار أو ذباب أو دخان) ولو ذاكرا استحسانا لعدم إمكان التحرز عنه، ومفاده أنه لو أدخل حلقه الدخان أفطر أي دخان كان ولو عودا أو عنبرا له ذاكرا لإمكان التحرز عنه فليتنبه له كما بسطه الشرنبلالي. (رد المحتارعلى الدرالمختار، باب مايفسد الصوم ومالايفسده،ج:2،ص:395)

لا يكره للصائم شم رائحة المسك والورد ونحوه مما لا يكون جوهرا متصلا كالدخان.(رد المحتارعلى الدرالمختار،باب مايفسد الصوم ومالايفسده،ج:2،ص:417)


فتویٰ نمبر : 10730/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں