بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
قبر ستان ميں اُگے ہوئےگھاس کا حکم
سوال
قبر ستان میں جو گھا س ہو تاہے بعض خشک اور بعض سبز تو سبز گھاس جانوروں کو کھلانا اورخشک گھاس کو جلانا جائزہے یا نہیں؟اور خشک گھاس کو اکھاڑنے کی صورت میں کیا حکم ہے کہ اس کو کس جگہ پر استعمال کیاجائے؟
جواب
واضح رہے کہ علماء کرام نے قبرستان کی ہری گھاس کاٹنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ قبرستان کی ہری گھاس اللہ تعالی کی حمد وثنا کرتی ہے ،جس سے مردوں کو فائدہ حاصل ہو تاہے ،لہذا اگر ہری گھاس کو کاٹ دیاجائے گا ،تو مردے اس فائدےسے محروم رہیں گے،اسی طرح قبرستان کی گھاس جانوروں کو کھلانا بھی جائز نہیں ،تاہم قبروں کے ارد گرد صفائی یا راستہ بنانے کی خاطر کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے،اور خشک گھاس کو اکھاڑنا،کاٹنا جائزہے لیکن آگ سے جلانا مکروہ ہے پھر آگ کے ذریعہ اگر قبرستان کی اس گھاس کو جلایا جائے جو قبر کے اوپر نہ ہو تومکروہ تنزیہی ہے اور اگر قبر کے اوپر ہو تو مکروہ تحریمی ہے،اور چونکہ عموما قبرستان کی زمین وقف ہوتی ہے اس لئے سوکھے ہوئےگھاس کو کاٹ کر بیچنا اگر ممکن ہو تو بیچ کر اس کی قیمت کو قبرستان پر خرچ کر نا ضروری ہے۔
ويكره أيضا قطع النبات الر طب والحشيش من المقبرة دون اليابس كما في البحر والدرر وشرح المنية،و علله في الإمداد بأنه ما دام رطبا يسبح الله تعالى فيؤنس الميت وتنزل بذكره الرحمة اه ونحوه في الخانية۔(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الصلواة،باب الجنازة،مطلب في وضع الجريد ۔۔۔ ج:3،ص:155)
سئل ابن نجم الدين في مقبرة فيها أشجار هل يجوز صرفها إلى عمارة المسجد قال :نعم إن لم تكن وقفا على وجه أخرقيل :له فإن تداعت حيطان المقبرةالخراب يصرف إليهاأو إلى المسجد قال :إلى ماهى وقف عليه إن عرف وإن لم يكن للمسجد متول ولا للمقبرة، فليس للعامةالتصرف فيها بدون إذن القاضي ،كذا في الظهيرة۔(الفتاوى الهندية،كتاب الوقف،ج:2،ص:418)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں