بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دیت میں میراث کا جاری ہونا


سوال

ایک آدمی مرگیا جس کی میراث میں سوائے دیت کے اور کوئی مال نہیں بچا، اس کے علاوہ علاقے کے لوگوں نے اس کے لیے ایک لاکھ  کے قریب چندہ بھی کیا، تو کیا دیت اور چندے کی رقم  میراث کے اصولوں کے موافق ورثاء میں تقسیم ہوگی یانہیں؟

2۔ اسی مرحوم کے ورثاء میں دو بیٹے ،ایک بیوی زندہ موجود ہیں تو مرحوم کا ترکہ مذکورہ ورثاء میں کس حساب سے تقسیم ہوگا؟

جواب

جاننا چاہیےکہ جو مال بوقت وفات میت کی ملکیت میں داخل ہووہ ورثاء میں بقدر حصص تقسیم کیا جائے گا،اسی طرح قتل شبہ عمد،قتل  خطا،جاری مجری خطااور قتل بالسبب میں لازم ہونےوالی دیت اور قتل عمد میں ورثاء کے صلح سےلازم ہونے والا مال  بھی مقتول کے ترکہ میں  شمار ہوگا،البتہ عطیات اور ہبوں میں میراث جاری نہیں ہوتا۔بلکہ وہ میت کے جس ورث کے لیے عطیہ کی گئی ہوتواسی کو ملے گا۔

لہذا صورت مسؤلہ میں دیت میں دی گئی رقم میراث کے اصولوں کے موافق ورثاء میں تقسیم کی جائے گی،اورعلاقے والوں کی طرف سے ملنے والی رقم میں میراث جاری نہیں  ہوگا بلکہ وہ میت کے جس وراث کے لیے ہبہ کی گئی ہوتووہ رقم اسی کو ملے گا۔

2۔مندرجہ بالا ورثا ء میں مرحوم کی میراث اس طرح تقسیم ہوگی کہ:

میـــــ(16)ــــــــــــــــــــــــت

بیوہ              بیٹا            بیٹا

2                7             7

بشرط صدق وثبوت اگرمرحوم کے مذکورہ بالا ورثاء کےعلاوہ اور کوئی قریبی وارث زندہ موجود نہ ہو،تو بعد ازاداے حقوق متقدمہ علی الارث  مرحوم کا ترکہ سولہ (16)حصوں میں تقسیم ہو کر بیوہ کو16/2حصے،بیٹوں میں سے ہرایک کو 16/7 حصے ملیں گے۔

 

 قال الله تعالى:﴿فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ﴾ (‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎النساء:12)

عن ابن عباس رضي الله عنهما،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (ألحقوا الفرائض بأهلها، ‌فما ‌بقي ‌فهو ‌لأولى ‌رجل ذكر).(صحيح البخاري،كتاب الفرائض،باب:ميراث الولد من أبيه وأمه،ج:6،ص:2476،الرقم:6351)

واعلم أنه يدخل في التركة ‌الدية ‌الواجبة بالقتل الخطأ أو بالصلح عن العمد.(ردالمحتار على الدر المختار،ج:6،ص:759)

العطايا لا يورث عنه.(الاشباه والنظائر،ج:2،ص:495)


فتویٰ نمبر : 3782/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں