بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بڑے اور چھوٹے گاؤں میں نماز جمعہ کاحکم


سوال

ہمارے علاقے میں ایک بڑا گاؤں ہے جس کی آبادی تقریباً تین ہزار نفوس پر مشتمل ہے اس گاؤں کے ارد گرد چار یا پانچ مزید گاؤں ہیں جس کی آبادی الگ الگ ایک ایک ہزار نفوس کے قریب ہے مگر یہ گاؤں بڑے گاؤں سے متصل نہیں البتہ تمام گاؤں ایک ہی ویلج کونسل میں شمار ہوتے ہیں مندرجہ ذیل امورمیں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔1۔کیا اس بڑے گاؤں میں نماز جمعہ کے قیام کی شرعی گنجائش ہے یا نہیں؟

2۔جو آس پاس کے چھوٹے گاؤں ہیں ( جو کہ متصل نہیں ) ان میں نماز جمعہ کا کیا حکم ہے؟3۔اگران چھوٹے گاوں میں پہلے سے جمعہ قائم کی جارہی ہوتو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

جاننا چاہیے کہ نمازجمعہ ان مسلمان مردوں پر فرض ہے جن میں دیگر شرائط کے ساتھ یہ شرط بھی پائی جائے کہ وہ شہر میں یا ایسے بڑے گاؤں میں ہوں جس کی آبادی کم از کم دویا ڈھائی ہزارتک پہنچتی ہواور ضروریات زندگی میسرہوں ۔لہٰذا اگر کسی گاؤں کی آبادی اس معیار سے کم ہوتواس کے باشندوں پر نمازِ جمعہ فرض نہیں ۔

صورت مسؤلہ میں1۔ جس  گاؤں کی آبادی تین ہزار لوگوں پر مشتمل ہے تووہاں کے لوگوں پر نماز جمعہ فرض ہے۔

2۔آس پاس کے چھوٹے گاؤں اگر الگ مستقل گاؤ ں شمار ہوتے ہوں اور بڑے گاؤں کے ساتھ متصل  نہ ہوں اور ان کی آبادی بھی ایک ہزار کے قریب ہو تو ان پر نماز جمعہ واجب  نہیں اگرچہ قانونی کاغذات میں وہ ایک ویلج کونسل کے تحت شمار ہوتے ہوں۔

3۔ چھوٹے گاؤں میں اگرپہلے سے نماز جمعہ ادا کی جاتی ہے تو اگر ترک کرنے سے فتنہ و فساد کا اندیشہ ہو تواپنے حال پر باقی رکھا جائے  تاکہ فتنہ اور فساد برپا نہ ہو۔

 

شرط أدائها المصر وهو كل موضع له أمير وقاض ينفذ الأحكام ويقيم الحدود أو مصلاه...والسلطان أو نائبه ووقت الظهر فتبطل بخروجه والخطبة قبلها...والجماعة وهم ثلاثة سوى الإمام... والإذن العام.(كنز الدقائق، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجمعة، ص: 189)

وتقع فرضاً في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق...وفيما ذكرنا إشارة إلى أنها لاتجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب، كذا في المضمرات. (ردالمحتار على الدر المختار،ج: 2، ص: 138)

درء المفاسد أولى من جلب المنافع.أي: إذا تعارضت مفسدة ومصلحة يقدم دفع المفسدة على ‌جلب ‌المصلحة. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المقالة الثانية في بیان القواعد الکلية الفقهية، المادۃ: 30، ج:1، ص:41)


فتویٰ نمبر : 10735/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں