بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں ڈرپ لگانا


سوال

1۔ مجھے دل کی بیماری ہے، اوردوا کھائے بغیر صبح 11 بجے تک نہیں رہ سکتی۔اس کے ساتھ ساتھ فجر سے مغرب تک دوا نہ کھاؤں تو ہارٹ ریٹ غیر معمولی کم ہو جاتا ہے، جس سے بے ہوشی  کا خطرہ ہوتا ہے۔ تو کیا افطارکرسکتی ہوں؟ 2۔رمضان میں کچھ دنوں کے لیے "IV سلو ڈرپ" کے ذریعے دوا لینا شروع کی ہے، لیکن نہ کھاتی ہوں، نہ پیتی ہوں بعض دن مکمل روزہ رکھ لیتی ہوں،مگر اگلے دن صرف IV سے ڈرپ لیتی ہوں،میں کھاتی نہیں، صرف جسم بچانے والی دوا لیتی ہوں۔ تو کیا IV ڈرپ (intravenous fluids) لینے سے روزہ ٹوٹتا ہے؟ اگر روزہ ٹوٹتا ہے تو کیا  مجھ  پرفدیہ لازم ہے یا قضا؟ نیزاگرمیری بیماری  دوام پکڑے تو کیا میرے لیے روزے چھوڑنا جائز ہوگا؟3۔اسی طرح سانس کی تکلیف کی وجہ سے رمضان میں inhalarاستعمال کرتا ہوں کیا اس کے استعمال سے میرا روزہ ٹوٹتا جاتا ہے کیاinhalar روزے کو توڑتی ہے یا نہیں؟

جواب

جاننا چاہیے کہ اگر روزہ  رکھنے سے  کسی بیمار آدمی کی بیماری بڑھتی ہو یا اس کی ہلاکت کا اندیشہ ہوتو شرعاً اس کوافطارکی اجازت ہے۔نیز  روزہ فاسد ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کوئی چیز معتاد منفذ(راستے ) سے بدن میں پہنچے۔اس کے علاوہ کسی اورراستے سے مثلاً:مسامات،رگ ،جلد،پٹھے کے ذریعے سے بد ن کے اندر کسی دوا کے داخل ہونے یا جوف معتبر تک کسی چیز کے اثرات پہنچ جانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

صورت  مسؤلہ کے مطابق1۔اگرواقعی دوائی نہ کھانے سے ہارٹ ریٹ کم ہوتی ہواور کسی مسلمان متدین ڈاکٹر نے روزہ نہ رکھنے کا کہا ہو تو شرعاً افطارکی گنجائش ہے اگرصحت یابی کی امید ہو تو پھر قضاء رکھے گی، ورنہ پھر قضاء شدہ روزوں کے بدلے فدیہ دے۔

IV ڈرپ لگانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتاکیونکہ اس میں غیرمعتاد راستےسے دوائی بدن میں داخل ہوتی ہے اورغیر معتاد راستے سے کسی چیز کا  بدن میں داخل ہونا روزہ کے لیے مفسد نہیں ،لہذا جب روزہ فاسد نہ ہوا تو نہ اس پر قضاءلازم ہے اورنہ فدیہ دینا۔

3۔روزہ کی حالت میں منہ کے ذریعے جب روزہ داراپنے فعل اوراختیار سے کوئی چیزکھائےتواس سے اس کاروزہ فاسد ہوجاتاہے اگرچہ اس کی مقدارکم کیوں نہ ہو۔چونکہ انہیلر میں صر ف گیس نہیں بلکہ دوا کے ذرات بھی اس میں شامل ہوتے ہیں اگرچہ اس کی مقدارکم  کیوں نہ ہواور معتاد راستے یعنی سے حلق میں قصداً پہنچائے جاتے ہیں اورچونکہ اس کے کچھ ذرات حلق میں رہ کر تھوک وغیرہ کے ساتھ معدہ میں پہنچتے ہیں اس لیے اس کے استعما ل سے روزہ فاسدہوجائےگا۔

 

أما المرض فالمرخص منه هو الذي يخاف أن يزداد بالصوم وإليه وقعت الإشارة في الجامع الصغير.

فإنه قال في رجل خاف إن لم يفطر أن تزداد عيناه وجعا، أو حماه شدة أفطر، وذكر الكرخي في مختصره: أن المرض الذي يبيح الإفطار هو ما يخاف منه الموت، أو زيادة العلة كائنا ما كانت العلة.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:2،ص:94)

(قوله: أنه لو أدخل حلقه الدخان) أي بأي صورة كان الإدخال، حتى لو تبخر ببخور وآواه إلى نفسه واشتمه ذاكرا لصومه أفطر لإمكان التحرز عنه.... وان وجد طعمه في حلقه(هي طعم الكحل او الدهن اما في السراج وكذا لو بزق فوجد لونه في الاصح بحر،قال في النهر:لان الموجود في حلقه اثر داخل من المسام الذي هو خلل البدن والمفطر انما هو الداخل من المنافذ لاتفاق على ان من اغتسل في ماء فوجد برده في باطنه انه لايفطر.(ردالمحتار على الدر المختار،باب ما يفسد الصوم ومالايفسد،ج:2،ص:395)

وحاصله أن الإفساد منوط بما إذا كان بفعله أو فيه صلاح بدنه، ويشترط أيضا استقراره داخل الجوف فيفسد بالخشبة إذا غيبها لوجود الفعل مع الاستقرار وإن لم يغيبها فلا لعدم الاستقرار ويفسد أيضا فيما لو أوجر مكرها أو نائما كما سيأتي؛ لأن فيه صلاحه.( رد المحتار على الدر المختار،ج:2،ص:397)


فتویٰ نمبر : 10735/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں