بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی پہلی صف میں اپنے لئے جگہ مخصوص کرنا


سوال

مسجد کی پہلی صف میں اپنے لیے جگہ مخصوص کرنا اور ہمیشہ وہیں نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد میں تمام مسلمان برابر کے حق دار ہوتے ہیں،  لہذا مسجد میں کسی جگہ کو  رومال، چادر، مصلی، تسبیح وغیرہ رکھ  کر اپنے لیے متعین کرکے چلے جانا اور جماعت کے وقت آکر اس جگہ پر اپنا حق جتانا اور بیٹھے ہوئے شخص کو اس جگہ سے ہٹنے پر مجبور کرنا یا اس جگہ پر کسی کو بیٹھنے نہ دینا، یہ سب ناجائزاور مکروہ  ہے، البتہ پہلے سے مسجد میں آکر کسی جگہ بیٹھنے کے بعد بغرضِ وضو  یا قرآنِ مجید لینے کے لیے اٹھتے ہوئے اس جگہ پر رومال، تسبیح وغیرہ رکھ کر جانا، یا پڑوس میں بیٹھے شخص کو کہہ کر جانا جائز ہے، اور اس طرح کرنے سے وہ جگہ اس شخص کے لیے مخصوص رہے گی۔

 

قال الله تعالى: ﴿ وأن المساجد لله ﴾ ( سورة الجن:18 )

ولا يتعين مكان مخصوص لأحد حتى لو كان للمدرس موضع من المسجد يدرس فيه فسبقه غيره إليه ليس له إزعاجه وإقامته منه فقد قال الإمام الزاهدي في فتاويه المسماة بالقنية معزيا إلى فتاوى العصر ‌له ‌في ‌المسجد ‌موضع ‌معين يواظب عليه وقد شغله غيره قال الأوزاعي له أن يزعجه وليس له ذلك عندنا.( البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،   (2/ 36)

‌له ‌في ‌المسجد ‌موضع ‌معين يواظب عليه وقد شغله غيره قال الأوزاعي له أن يزعجه وليس له ذلك عندنا ويكره تخصيص مكان في المسجد لنفسه لأنه يخل بالخشوع.( البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب الوقف، كان إلى المسجد مدخل من دار موقوفة، ج:5، ص:270 )

(‌قوله ‌وتخصيص ‌مكان ‌لنفسه) لأنه يخل بالخشوع، كذا في القنية: أي لأنه إذا اعتاده ثم صلى في غيره يبقى باله مشغولا بالأول، بخلاف ما إذا لم يألف مكانا معينا (قوله وليس له إلخ) قال في القنية: له في المسجد موضع معين يواظب عليه وقد شغله غيره. قال الأوزاعي: له أن يزعجه، وليس له ذلك عندنا اهـ أي لأن المسجد ليس ملكا لأحد بحر عن النهاية.قلت: وينبغي تقييده بما إذا لم يقم عنه على نية العود بلا مهلة، كما لو قام للوضوء مثلا ولا سيما إذا وضع فيه ثوبه لتحقق سبق يده تأمل.( رد المحتار، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة و ما يكره فيها، مطلب في الغرس في المسجد، ج:1، ص:662 )


فتویٰ نمبر : 6459/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں