بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

۹ ذی الحجہ کے دن غروب شمس کے بعد وقوف کرنا


سوال

اگر کوئی حاجی  عرفہ کے دن غروب شمس کے بعد وقوف کرے،تو کیا اس سے وقوف ادا ہوجائے گا یا نہیں؟ اور اس پردم وغیرہ لازم ہوگا یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ وقوف عرفہ کی دو شرائط ہیں، پہلی یہ کہ وقوفِ عرفہ  عرفہ کے میدان میں ہو، اور دوسری یہ کہ اپنے وقت میں ہو،اس لیے حاجی کے لئے وقت کے اندر رات یا دن میں کسی بھی وقت حدودِ عرفات میں ٹھہرنا یا گذرنا فرض ہے،اور وقوف عرفہ کا وقت   ۹ ذی الحجہ (یوم عرفہ) کے زوال کے بعد سے  ۱۰ ذی الحجہ (یوم النحر) کی صبح صادق تک ہےلہذا اس وقت  کے درمیان جو شخص حدودِ عرفات میں ٹھہرے یا گذر جائے، خواہ کسی حالت میں بھی ہو،حتی کہ وقوف کی نیت ہو یا نہ ہو، بہرصورت اس کا وقوف ادا ہوجائے گا، تاہم وقوفِ عرفہ میں واجب یہ ہے کہ عرفہ کا دن گذار کر آنے والی رات کا کچھ حصہ  عرفات میں گذارا جائے۔

لہذا صورت مسئولہ  کے مطابق اگر کوئی ۹ذی الحجہ کے دن غروب شمس کے بعد وقوف عرفہ کرے،تو اس کا وقوف ہوجائے گا،اور اس پر غروب شمس کے بعد وقوف کرنے سے کچھ بھی لازم نہ ہوگا۔

 

وإن أدركها بعد غروب الشمس، ولم يقف، ومر بها فلا شيء عليه، ويكون مدركا وتم حجه.( النهاية في شرح الهداية، كتاب الحج، باب الإحرام، لا يجوز الخروج من حدود عرفه قبل غروب الشمس، ج:6 ص:84 )

وذلك لأن الوقوف في جزء من الليل واجب فبتركه يلزم الدم.( رد المحتار، كتاب الحج، باب الجنايات، ج:2، ص:552 )

(والوقوف شرطه شيئان) أحدهما كونه في أرض عرفات والثاني أن يكون في وقته وليس القيام من شروطه ولا من واجباته حتى لو كان جالسا جاز وكذا النية ليست من شروطه...، ثم وقت الوقوف بعرفة بعد زوال الشمس من يوم عرفة إلى طلوع الفجر من أول النحر فمن حصل في هذا الوقت فيها وهو عالم بها أو جاهل أو نائم أو يقظان مفيقا أو مجنونا أو مغمى عليه فوقف بها أو مر مار ولم يقف صار مدركا للحج...، وليلة النحر تابعة ليوم عرفة حتى يجوز الوقوف فيها كما يجوز في يوم عرفة.( الفتاوى الهندية، كتاب المناسك، باب في كيفية أداء الحج، ج:1، ص:229 )

ويكون الوقوف إلى غروب الشمس، ولم يرد به بيان امتداد وقت الوقوف يمد إلى طلوع الفجر من يوم النحر، حتى إن من لم يقف عرفة، ووقف ليلة النحر، فقد تم حجه، وإنما أراد به بيان امتداد نفس الوقوف، يعني: إذا وقف بعد الزوال ينبغي أن يقف إلى وقت غروب الشمس، فإذا غربت الشمس مشى على هينته حتى يأتي المزدلفة.( المحيط البرهاني، كتاب المناسك، فصل في تعليم أعمال الحج، ج:2، ص:428 )


فتویٰ نمبر : 10731/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں