بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ڈاکٹر کا دواساز کمپنیوں سے کمیشن لینا


سوال

 میرا پیشہ ڈاکٹری ہے اور میں بچوں کے علاج کے دوران بعض اوقات دودھ پلانے والی کمپنیوں کے دودھ تجویز کرتا ہوں۔ اس کمپنی کا دودھ تین قسم کاہوتا ہے: اعلیٰ، درمیانہ اور ادنیٰ۔ ان میں سے ہر قسم کا دودھ اپنی اپنی افادیت رکھتا ہے اور بچوں کی ضرورت کے مطابق میں ان میں سے کسی ایک کی تجویز دیتا ہوں۔تاہم، جب میں کمپنی کا دودھ تجویز کرتا ہوں تو کمپنی والے مجھے اس کے بدلے میں کمیشن دیتے ہیں۔کیا میرے لیے کمپنی سے یہ کمیشن لینا شرعاً جائز ہے؟

جواب

کسی کمپنی کی دوا تجویز کرنا ڈاکٹر کی ذاتی رائے ہے جو کہ متعلقہ کمپنی کی اچھی کارکردگی پر اظہار اور اعتماد کی بنا پر ہوتی ہے یہ کوئی ایسی محنت اور خدمت نہیں جس کا باقاعدہ معاوضہ طے کیا جا سکے بلکہ عموماً یہ رشوت کی ایک شکل بن جاتی ہے جو فن طب کے مقدس شعبہ سے وابستہ حضرات کے لئے خلاف شریعت اور خلاف مروت ہے۔

کسی ڈاکٹر کے مطالبے کے بغیر تحائف یا دیگر سہولیات اگرکمپنی مہیاکرےتو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگران چیزوں کی مالی حیثیت معمولی ہو جس سے ڈاکٹر خود کو زیر بار محسوس نہ کرےاور نفسیاتی طور پر غیر ضروری دوائیں لکھنے کی طرف مجبور بھی نہ ہو تو ان کے لینے اور استعمال کرنے کی گنجائش ہے اور اگر ڈاکٹر ان تحائف کی وجہ سے کمپنی کے کسی ناجائز اقدام کو سہارا دینے کے لیے استعمال ہوتا ہو تو رشوت ہونے کی بنا پر ان ہدایا کا قبول کرنا ناجائز ہوگا اسی طرح ایسے قیمتی تحائف جو ڈاکٹر کو رشوت بنام تحفہ کے طور پر دی جاتی ہیں چونکہ عموماً اس سے ڈاکٹر کے ضمیر کا سودا ہی مقصود ہوتا ہے اس لیے شرعاً ایسے تحائف قبول کرنا جائز نہیں۔

 

 قال العلامة الآلوسي تحت قوله تعالى: "يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْباطِلِ۔۔۔ النساء: 29" والمعنى لا يأكل بعضكم أموال بعض، والمراد بالباطل ما يخالف الشرع كالربا والقمار والبخس والظلم ۔ ۔ ۔ وعن الحسن هو ما كان بغير استحقاق من طريق الأعواض۔ (تفسير روح المعاني، سورةالنساءج:3 ، ص:16)

وقال - صلى الله عليه وسلم - «الراشي والمرتشي والرايش في النار، ولعن الله من أعان الظلمة، أو كتب لهم» والأصل في الكل قوله {ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} [المائدة: 2]۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب الصرف، ج:14، ص:8)


فتویٰ نمبر : 3928/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں