بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

باہر ملک کے ہوٹل میں استقبالیہ کی نوکری کرنا


سوال

مغربی ملک میں ہوٹل کی نوکری ہے جہاں شراب بھی پیش  کی جاتی ہے لیکن میرا کام استقبالیہ پرہے جس کا پپینے پلانے سے کوئی تعلق نہیں ہے  مالی حالات بھی کمزور ہے اور کوئی نوکری بھی نہیں ہے اب میرے لئے  شریعت کا کیا حکم ہے ؟

 

جواب

واضح رہے کہ جس کمپنی یا ادارہ میں حلال اور حرام دونوں قسم کا کاروبار ہوتاہو اور کسی ملازم  کی نوکری کا تعلق براہ راست  اس حرام کاروبار سے نہ ہو بلکہ وہ کسی اور جائز کام پر مامور ہو تو ایسی نوکری کی شرعا گنجائش ہے ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگرسائل استقبالیہ کی ڈیوٹی پر مامور ہو جس کا شراب پینے اور پلانے یا کسی اور ناجائز کام سے کوئی تعلق نہ ہو تو اس صورت میں اس کے لئے نوکری کی گنجائش ہے تاہم  سائل کو چاہیئے کہ کھلم کھلا گناہوں کے ماحول سے بچنے کے لئے  اس کے علاوہ کوئی اور کام تلاش کرتا رہے ۔

 

ولو استأجر الذمي مسلما ليبني له بيعة أو كنيسة جاز ويطيب له الأجر.(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،الباب السادس عشر في مسائل الشيوع،ج :4،ص:487)


فتویٰ نمبر : 6461/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں