بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عورتوں کے لئے آبروں سے زائد بال اکھیڑ نا


سوال

کیا گنی بھنوؤں کو اوپر سے ترتیب دینا جائز ہے؟زائد بالوں کو جو بدنما لگ رہے ہوں جبکہ نہ کروانے سےشوہر کی بے رغبتی پیدا ہو۔ شادی سے پہلے کبھی نہیں کروائی۔ شادی کے بعد  ترتیب نہ دینے پر شوہر کا کہنا کہ ڈریکولا جن لگ رہی ہوتواس صورت میں میرے لئے  کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عورت کا  بھنوؤں سے زائد بالوں کو اکھیڑنا جائز ہے بشرطکیہ اس میں شرعی حدود کا خیال رکھاجائے،بالکل باریک بنانا جائز نہیں  کیونکہ حدیث میں ایسی عورتوں پر لعنت کی گئی ہے جو بال نوچتی ہو یا نو چواتی ہو ۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگر بھنوؤں کے بال حدود سے زیادہ تجاوز کرچکے ہو اور نا مناسب لگتے ہو ں تو اس صورت میں شوہر کے لئے  زیب وزینت کی خاطر زائد بالوں کو نکالنے کی گنجائش ہے۔

 

عن ابن عباس، قال: ‌لعنت ‌الواصلة، والمستوصلة، والنامصة، والمتنمصة، والواشمة، والمستوشمة، من غير داء" قال أبو داود: " وتفسير الواصلة: التي تصل الشعر بشعر النساء، والمستوصلة: المعمول بها، والنامصة: التي تنقش الحاجب حتى ترقه،والمتنمصة: المعمول بها، والواشمة: التي تجعل الخيلان في وجهها بكحل أو مداد، والمستوشمة: المعمول بها .(سنن أبي داود، کتاب الترجل ،باب فی صلۃ الشعر ،ج:4ص78،رقم الحدیث،4170)

(قوله والنامصة إلخ) ذكره في الاختيار أيضا وفي المغرب النمص: نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه، ففي تحريم إزالته بعد،لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين،إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء. وفي تبيين المحارم إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب.(رد المحتار على الدر المختار،فعل في النظر والمس،ج:6، ص:373)


فتویٰ نمبر : 6457/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں