بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ضرر رساں کتوں کو مارنا


سوال

گاؤں میں کتوں کی بہتات کی وجہ سے ہم بہت زیادہ پریشانی کے شکار ہیں،اور کتوں کے کاٹنے کی وجہ سے مالی نقصان تو ہوتا رہتا ہے لیکن کبھی کبھار جانوں کا ضیاع بھی ہوتا ہے،جو ایک غریب  کے اوپر بہت ہی بھاری بوجھ ہے،اور اس کی وجہ سے معصوم بچوں،بوڑھوں اور عورتوں کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ ہم نے کئی بار ان کو کسی خالی جگہ پر چھوڑا لیکن وہ پھر واپس آجاتے ہیں،اس لیے ہمیں مذکورہ بالا حالات و واقعات کی روشنی میں شرعی طور پر آگاہ فرمائیں کہ کتوں کو زہر دے کر مارا جا سکتا ہے؟ یا کتوں کو کسی اور طرح سے  مارنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کتا یا کوئی بھی جانور جو موذی یعنی ضرر رساں ہو خواہ کاٹتا ہویا کسی اور قسم کا ضرر پہنچاتا ہو،تواس کو شرعا قتل کرنا جائز ہے،لیکن شریعتِ مطہرہ نے جہاں قتل کرنے کی اجازت دی ہے وہاں قتل کرنے سے متعلق ہدایات بھی دی ہیں کہ ایسے آلے سے قتل کیاجائے جس میں اس جانورکو کم سے کم تکلیف ہو۔ صورتِ مسئولہ میں جب کتے اس قدر ضرر رساں ہیں کہ ان کی وجہ سے جان مال دونوں کا ضیاع ہو رہا ہے تو ان کو قتل کرنا جائز ہے، البتہ ایسے طریقے سے قتل کیا جائےجس میں ان کو کم سے کم تکلیف ہو۔

 

عن شداد بن أوس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:إن الله عز وجل كتب الإحسان على كل شيء،فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة،وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح،وليحد أحدكم شفرته،وليرح ذبيحته.(سنن ابن ماجه،کتاب الذبائح، باب:إذا ذبحتم فأحسنوا الذبح،ج:2،ص:1058،رقم الحديث:3170)

(وجاز ‌قتل ‌ما ‌يضر منها ككلب عقور وهرة)تضر(ويذبحها)أي الهرة(ذبحا)ولا يضر بها لأنه لا يفيد،ولا يحرقها...(قوله ويذبحها) الظاهر أن الكلب مثلها.(الدرالمختار،مسائل شتی،ج:6،ص:752)

وجاز ‌قتل ‌ما ‌يضر من البهائم كالكلب العقور والهرة إذا كانت تأكل الحمام والدجاج لإزالة الضرر ويذبحها ولا يضر بها؛لأنه لا يفيد فيكون معذبا لها بلا فائدة.(البحرالرائق،مسائل شتى،ج:8،ص:554)


فتویٰ نمبر : 6461/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں