بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
سفیدار کے شاخوں میں عشر یا نصف عشر
سوال
میں نے ایک کنال زمین پر سفیدار کے درخت کاشت کیے ہیں۔ سال میں ایک مرتبہ میں ان کی شاخ تراشی کرتا ہوں اور پھر انہیں بڑھئیوں اور شیٹرنگ والوں کو فروخت کرتا ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ان تراش شدہ شاخوں پر عشر ادا کرنا مجھ پر لازم ہے؟
جواب
جاننا چاہیے کہ اگر کوئی شخص زمین پرشجر کاری کرے اور اس سے اس کا مقصد لکڑیاں حاصل کرنا ہو تو اس میں عشر واجب ہوگا۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ عشر یا نصف عشر کا دارومدار سیرابی پر ہے۔ اگر فصل بارش یا قدرتی چشموں کے ذریعے براہ راست بغیر کسی مشقت کے سیراب کی جاتی ہو،تو اس میں عشر واجب ہوگا،لیکن اگر کسی اور طریقے سے سیرابی ہوتی ہو جس میں بوجھ،خرچ اور مشقت کو بھی دخل ہو تو پھر نصف عشر واجب ہوگا۔
صورت مسئولہ میں سفیدار کے درخت چونکہ فصل کے طور پر کاشت کیے جاتے ہیں،اس لیے ان میں عشر یا نصف عشر لازم ہوگا۔ اسی طرح اس کی تراش شدہ شاخیں اگر باقاعدہ مخصوص مقاصد کے لیے بیچے جاتے ہوں،تو یہ بھی پیداوار میں شمار ہوکر ان میں بھی عشر یا نصف عشر لازم ہوگا۔
أما الحطب،والقصب،والحشيش لا تستنبت في الجنان عادة،بل تنقى عنها،حتى لو اتخذها مقصبة،أو مشجرة،أو منبتا للحشيش،يجب فيها العشر.(الهداية،كتاب الزكوة،باب زكوة الزروع والثمار،ج:1،ص:218)
ثم ماء العشر ماء البئر التي حفرت في أرض العشر، وماء العين التي تظهر في أرض العشر،وكذلك ماء السماء،و ماء البحار العظام عشري.(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة،باب زكوة الزروع والثمار،ج:1،ص:186،187)
قوله:(لكثرة المؤنة) علة لوجوب نصف العشر فيما ذكر...ولو رفعت المؤنة كان الواجب واحدا،وهو العشر.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الزكوة،باب العشر،ج:3،ص:328)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں