بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

امانت سے فائدہ اٹھانا


سوال

اگر کسی کے پاس کوئی چیز یا نقد رقم امانت پڑی ہو تو وہ اس سے بوقت ضرورت فائدہ حاصل کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

امانت کے متعلق شریعت مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ کسی کی امانت میں مالک کی رضامندی کے بغیر تصرف کرنے کی اجازت نہیں ہے،امین پر امانت کی حفاظت لازم اور ضروری ہے۔ اس کی حفاظت کے لیے جو بھی تدبیر اختیار کرنی پڑے امین وہ کرسکتا ہے،مگر حفاظتی تدابیر کے علاوہ دیگر تصرفات کی صورت میں اگر ہلاکت واقع ہوجائے تو امین ضامن ہوگا،تا ہم امانت رکھتے وقت اگر مالک اجازت دےدے،تو امانت سے فائدہ اٹھانے کی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق بوقت ضرورت امانت سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا الا یہ کہ مالک سے استعمال کی اجازت لی گئی ہو۔ استعمال کرنے کے بعد وہ رقم قرض کے حکم میں ہوگی،چنانچہ اس کا واپس کرنا لازم ہوگا۔

 

وفي الشريعة(الإيداع تسليط المالك غيره على حفظ ماله)صريحا أو دلالة.(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،كتاب الوديعة، ج:2،ص:337)

ولنا أن الشيء إنما يبطل بما ينافيه والاستعمال لا ينافي الإيداع، ولذا صح الأمر بالحفظ مع الاستعمال ابتداء.(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،كتاب الوديعة،ج:2،ص:341)

والوديعة لا تودع،ولا تعار،ولا ترهن و إن فعل شيئا منها ضمن.(الفتاوى الهندية،كتاب الوديعة،الباب الأول،ج:4،ص:338)

ولو أنفق المودع بعض الوديعة؛ ضمن قدر ما أنفق، ولا يضمن الباقي؛ لأنه لم يوجد منه إلا إتلاف قدر ما أنفق.(بدائع الصنائع،كتاب الوديعة،فصل في بيان ما يغير حال الوديعة من الأمانة إلى الضمان،ج:6،ص:213)


فتویٰ نمبر : 3930/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں