بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

طواف کے بعد دو رکعت نماز كا بھول جانا


سوال

طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے، اور اگر کوئی پڑھنا بھول جائے تو کیا کرے؟

جواب

واضح رہے کہ ہر طواف کے سات چکروں کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے، اور اس کو حرم شریف میں پڑھنا سنت ہے اور مقام ابراہیم اور بیت اللہ کو سامنے لے کر پڑھنا افضل ہے۔ اگر وہاں جگہ نہ ملے تو پوری مسجد الحرام میں کہیں بھی پڑھ سکتا ہے، اگر کسی نے یہ دو رکعت نماز مسجد الحرام میں نہیں پڑھی تو اس کو جہاں کہیں بھی ادا کرے، ذمہ فارغ ہو جائے گا لیکن جب تک ادا نہیں کرے گا ذمہ سے ساقط نہیں ہوگی، چنانچہ اگر بھول گیا اور اپنے وطن واپس پہنچ گیا تو وطن میں ہی یہ دو رکعت پڑھ لے، واجب ادا ہوجائے گا۔

 

(وختم الطواف باستلام الحجر استنانا ثم صلى شفعا) في وقت مباح (يجب) بالجيم على الصحيح (بعد كل أسبوع عند المقام) حجارة ظهر فيها أثر قدمي الخليل (أو غيره من المسجد)۔ (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الحج،فصل في الإحرام وصفة المفرد،ج:2،ص:497)

"وهي" أى صلاة الطواف واجبة بعد كل طواف فرضًا كان أو واجبًا، أو سنة أو نفلاً ولا تختص بزمان ولامكان، أى باعتبار الجواز والصحة، ولاتفوت فلو تركها لم تجبر بدم ولو صلاها خارج الحرم ولو بعد الرجوع إلى وطنه جاز ويكره، والسنة الموالاة بينهما وبين الطواف، وتستحب مؤكدًا أدائها خلف المقام ... ثم فى الكعبة ثم فى الحجر تحت الميزاب ثم كل ما قرب من الحجر إلى البيت ثم باقى الحجر ثم ما قرب من البيت ثم المسجد ثم الحرم، ثم لا فضيلة بعد الحرم، بل الإساءة۔ (لباب المناسک مع إرشاد الساري، باب أنواع الأطوفة وأحكاامها، ص:218)


فتویٰ نمبر : 10723/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں