بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نفاس کا خون چالیس دن کے بعد بھی آنا


سوال

اگر کسی خاتون کا بچہ پیدا ہوجائے اور چالیس دن گزر جائیں اور عورت کا خون اب بھی جاری ہو، تو کیا ایسی صورت میں وہ نماز پڑھ سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے اور کم سے کم مدت کی کوئی حد مقرر نہیں۔ اگر خون چالیس دن کے بعد بھی جاری رہے تو یہ استحاضہ کا خون شمار ہوگا اس صورت میں عورت پر نماز پڑھنا لازم ہوگا۔

لہٰذا صورت مسؤلہ میں اگر مذکورہ عورت کا خون چالیس دن کے بعد بھی جاری رہے تو اس صورت میں یہ خون استحاضہ کا شمار ہوگا چنانچہ اس عورت پر لازم ہوگا وہ غسل کرکے ان دنوں کی نماز پڑھے اور ہر نماز کے لیے وضو کرتی رہے اگر کسی عذر کی بنا پر نہ پڑھ سکے تو بعد میں ان دنوں کی نمازوں کی قضا اس کے ذمہ لازم ہوگی۔

 

أقل النفاس ما يوجد ولو ساعةً، وعليه الفتوى، وأكثره أربعون، كذا في السراجية. وإن زاد الدم على الأربعين فالأربعون في المبتدأة والمعروفة في المعتادة نفاس، هكذا في المحيط۔ (الفتاوی الھندیة كتاب الطهارة، الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء، الفصل الثاني في النفاس، ج: 1، ص:  37)

 (ودم استحاضة) حكمه (كرعاف دائم) وقتًا كاملًا (لا يمنع صومًا وصلاةً) ولو نفلًا (وجماعًا) لحديث؛ توضئي وصلي وإن قطر الدم على الحصير. (قوله: لايمنع صومًا إلخ) أي ولا قراءة ومس مصحف ودخول مسجد وكذا لا تمنع عن الطواف إذا أمنت من اللوث قهستاني عن الخزانة ...(قوله: لحديث توضئي) فإنه ثبت به حكم الصلاة عبارة، وحكم الصوم والجماع دلالة اهـ منح ودرر وإبدال الدلالة بالإشارة لا يخفى ما فيه على من له معرفة بالأصول فافهم۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ‌‌كتاب الطهارة، ‌‌باب الحيض، ج: 1، ص: 298)


فتویٰ نمبر : 10724/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں