بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

نابالغ بچوں کاقرآن مجیدبے وضواٹھانا


سوال

اگر  6 یا 7 سال کا بچہ،بچی قرآن مجید بے وضو اٹھالے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قرآن مجید کو بے وضومس کرنا بڑو ں کے لیے ممنوع ہے البتہ چھوٹے اور نابالغ بچے اگر قرآن مجید  کوبے وضو اٹھالیاتو یہ جائز ہے تاہم  بچوں کو  بھی قرآنِ مجید اٹھانے کے لیے وضو کی عادت ڈالنی چاہیے۔

 

قال الله تعالى:﴿لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ﴾(الواقعة:79)

 (‌ولا)يكره(‌مس ‌صبي ‌لمصحف ‌ولوح)ولابأس ‌بدفعه إليه وطلبه ‌منه ‌للضرورة‌إذ‌الحفظ ‌في ‌الصغركالنقش ‌في ‌الحجر.(قوله:ولايكره مس صبي إلخ) فيه أن الصبي غير مكلف والظاهر أن المراد لايكره لوليه أن يتركه يمس، بخلاف ما لورآه يشرب خمراً مثلاً فإنه لايحل له تركه.(قوله:ولا بأس بدفعه إليه)أي لا بأس بأن يدفع البالغ المتطهرالمصحف إلى الصبي،ولايتوهم جوازه مع وجودحدث البالغ.(قوله:للضرورة)لأن في تكليف الصبيان وأمرهم بالوضوءحرجابهم،وفي تأخيره إلى البلوغ تقليل حفظ القرآن درر.(ردالمحتار علی الدر المختار،کتاب الطهارة،سنن الغسل،ج:1،ص:174)


فتویٰ نمبر : 10728/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں