بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کھانے کے دوران خاموش رہنا


سوال

کھانے کے دوران باتیں کرنا چاہیے یا  خاموش رہنا،جبکہ بعض لوگوں سے سنا ہے کہ کھانے کے دوران خاموش رہنا مجوسیوں کی عادت ہے۔

جواب

واضح رہے کہ دینِ اسلام میں مسلمانوں کو  کافروں کے ساتھ مشابہت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔چونکہ فقہائے کرام نے فرمایا کہ یہ مجوسیوں کی عادت تھی کہ کھانے کے دوران وہ بالکل خاموش رہتے تھے،اس لیے مسلمانوں کے لیے کھانے کے دوران خاموش رہنا مکروہ ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق کھانے کے دوران خاموش رہنا مجوسیوں کے ساتھ مشابہت ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے،   لہذا کھانے کے دوران باتیں کرنا جائز ہے۔البتہ فضول باتوں سے اجتناب کیا جائے بلکہ اچھی اور اصلاح کی باتیں کرنی چاہیے۔

 

يكره السكوت حالةالأكل؛لأنه تشبه بالمجوس،کذا في''السراجية''.(الفتاوی الهندية،كتاب الكراهية،الباب الثاني عشرفي الهدايا والضیافات،ج:5،ص:345)


فتویٰ نمبر : 6478/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں