بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

استطاعت و فرضیت سے پہلے حج کرنے کے بعد مالدار ہونا


سوال

جس شخص پر حج فرض نہیں تھا لیکن اس نے حج ادا کر لیا ،بعد میں وہ مالدار ہوگیا یعنی استطاعت  ِحج  موجودہوا ۔کیا وہ دوبارہ حج ادا کرے گا یا سابقہ حج سے فرضیت ادا ہوگئی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ہر عاقل ،بالغ ،صاحب استطاعت  مسلمان پرپوری  زندگی میں ایک بار حج ادا کرنا فرض ہے ،اگر کوئی ایک دفعہ مطلق نیت سے یا فرض کی نیت سے حج ادا کرے تو اس کا ذمہ فارغ ہوجاتا ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق مالی استطاعت نہ رکھنے والے شخص نے مطلق نیت سے یا فرض کی نیت سے احرام باندھ کر حج کیا تھا، تو اس پر مالدار ہونے کے بعد دوبارہ حج فرض نہیں ہے، لیکن اگر اس نے نفل حج کی نیت سے احرام باندھ کر حج کیا تھا، تو اس پر مالدار ہونے کے بعد دوبارہ حج  ادا کرنا فرض ہے۔

 

الفقير إذا حج ماشيا ثم أيسر لا حج عليه هكذا في فتاوى قاضي خان.(الفتاوى الهندية،کتاب المناسک،الباب الأوّل:فی تفسیر الحج و فرضیته،ج:1،ص:217)

ليفيد أنه يتعين عليه أن لا ينوي نفلا على زعم أنه لا يجب عليه لفقره.....فلو نواه نفلا لزمه الحج ثانيا.(رد المحتار علی الدر المختار،كتاب الحج،ج:2،ص:460)

ولو حج الفقيرماشياً سقط عنه حجة الإسلام، حتى لو استغنى بعد ذلك لا يلزمه ثانيا.(البناية شرح الهداية،کتاب الحج،الاستطاعة من شروط وجوب الحج،ج:4،ص:144)

حج الفقير نفلا يجب عليه أن يحج حجا ثانيا.(البحرالرائق شرح کنز الدقائق،كتاب الحج،باب الحج عن الغير، ج:3،ص:74)


فتویٰ نمبر : 10737/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں