بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

Amazon Dropshippig


سوال

میں پاکستان میں رہتا ہوں اورانٹرنیٹ پر "Amazon Dropshipping" کے ذریعے کاروبار کرنا چاہتا ہوں۔اس ماڈل میں درج ذیل طریقہ کار ہوتاہے:1.میں ایک آن لائن سٹورAmazon پر بناتا ہوں اور امریکی خریداروں کو مصنوعات آفر کرتا ہوں،2.حقیقت میں میرے پاس وہ مال موجود نہیں ہوتا، بلکہ جب کوئی خریدار آرڈر دیتا ہے،3.تو میں اسی وقت چین یا امریکہ کے کسی wholesaler سے وہ مال سستا خرید کر سیدھا خریدار کو بھجوا دیتا ہوں۔4.درمیان میں جو منافع بچتا ہے، وہ میری کمائی ہوتی ہے۔ یہ سارا عمل:نہ میرے قبضے میں مال آتا ہے،نہ میرے پاس کوئی سٹاک ہوتا ہے،نہ میں خریدار کو حقیقت میں delivery دیتا ہوں، بلکہ تیسرا شخص دیتا ہے،میں صرف ویب سائٹ پر listings لگا کر منافع کماتا ہوں۔شرعاً اس طرح  کام کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

 جاننا چاہیے کہ شرعاً جس چیزکو بیچا جارہا ہواس کا عقد اور ادائیگی کے وقت بائع (فروخت کنندہ) کی ملکیت اور قبضہ میں ہونا ضروری ہے   چنانچہ جو چیز عقد اورادائیگی کے وقت با ئع کی ملکیت اور قبضہ میں نہ ہواس کا بیچنا شرعا جائز نہیں ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق چونکہ عقد کے وقت فروخت ہو نے والی چیز بائع (فروخت کنندہ) کی ملکیت میں نہیں ہوتی ، لہذا اس طرح کسی چیز کو آگے فروخت کرکے اس پر نفع کما نا جائزنہیں۔

 

عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من ابتاع طعاما، فلا يبعه حتى يستوفيه، قال ابن عباس:وأحسب كل شيء مثله.(‌‌صحیح مسلم،كتاب البيوع،‌‌باب بطلان بيع المبيع قبل القبض،ج:2،ص:31،حدیث رقم:1525)

قال رحمه الله:(لا بيع المنقول) أي لا يجوز بيع المنقول قبل القبض لما روينا ولقوله عليه الصلاة والسلام «إذا ابتعت طعاما فلا تبعه حتى تستوفيه» رواه مسلم وأحمد؛ ولأن ‌فيه ‌غرر ‌انفساخ ‌العقد على اعتبارالهلاك قبل القبض؛ لأنه إذا هلك المبيع قبل القبض ينفسخ العقد فيتبين أنه باع ما لايملك والغررحرام لما روينا." (تبیین الحقائق في شرح كنز الدقائق،باب التولية،فصل بیع العقارقبل قبضه ،ج:4،ص:438)

إذ من شرط المعقود عليه: أن يكون موجوداً مالاً متقوماً مملوكاً في نفسه، وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه، وأن يكون مقدور التسليم،منح."(رد المحتار علی الدر المختار ،کتاب البيوع، باب بيع الفاسد،ج:7،ص:246)


فتویٰ نمبر : 3926/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں