بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

لے پالک کو سرکاری کاغذات میں اپنی طرف منسوب کرنا


سوال

ہم نے ایک بچی گود لی ہے اب اس کا ب فارم بنوانا ہے۔ کیا اس میں بچی کے اصل والدین کی جگہ اپنا نام لكھوا سکتے ہیں ؟ہماری نیت صرف یہ ہے کہ بعد میں ہونے والی قانونی الجھنوں سے بچا جاۓ ۔

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کا دوسرے کے بچے/بچی  کو گود لینا اور اس کی تربیت اور پرورش کرنا شرعا جائز ہے لیکن ایسے بچے /بچی کو سرکاری  کاغذات جیسے برتھ سرٹیفکیٹ،یا ب فارم وغیرہ میں اصل باپ کی طرف منسوب کرنا  شرعاضروری ہے  ۔

صورت مسؤلہ میں لے پالک  بچی کے لئے ب فارم بناتے وقت اصل والدین کی جگہ پالنے والے مرد وعورت  کا  نام میں باپ کے طور پرلکھوانا شرعا جائز نہیں ۔ قرآن کریم میں اس بات سےوضاحت کے ساتھ منع کیا گیا  ہے کہ حقیقی والدین کے علاوہ کوئی لے پالک کو اپنی طرف منسوب کرکے پکارے، لہذا اس بچی کوتمام سرکاری کاغذات میں اپنے والدین کی طرف منسوب کیا جائے۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ (4) ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ ﴾(الأحزاب: 4-5)


فتویٰ نمبر : 7266/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں