بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اجنبیہ عورت کوماں مان لینا


سوال

اگرکوئی شخص کسی اجنبیہ عورت کو ماں مان لے توبلوغت کو پہنچ جانے کے بعداس عورت سے پردے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی اجنبی عورت جس کو محض زبان سےماں بولا جائے، اس کا حکم اجنبی عورت ہی کا ہوتاہے، وہ محارم میں داخل نہ ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق کسی اجنبیہ عورت کو ماں مان لینے سے وہ عورت محرمات میں سے نہیں بنتی، بلکہ اس کا شمارغیر محرم میں سے ہوگا، چنانچہ اس سے پردہ لازم ہوگا۔

 

‌قال الله تعالى: ﴿‌إِنْ ‌أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ ﴾. (المجادلة، 02) 

إن ‌أمهاتهم أي ما أمهاتهم على الحقيقة إلا اللائي ولدنهم فلا يشبه بهن من الحرمة إلا من ألحقها الله تعالى بهن كالمرضعات ومنكوحات الرسول صلى الله تعالى عليه وسلم فدخلن في حكم الأمهات. (روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني، ج:14، ص:200)


فتویٰ نمبر : 7263/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں