بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
دوائی کی کمپنیوں سے معاہدہ شدہ فوائد لینا
سوال
میں ڈھاکہ میڈیکل کالج میں زیرِ تربیت ہوں۔ کام کے زیادہ دباؤ کی وجہ سے ہم نے اپنے سینئرز سے درخواست کی کہ ہفتے میں ایک دن ہمارے لیے ناشتے کا انتظام کیا جائے۔ ہماری درخواست پر انہوں نے انتظام تو کر دیا، لیکن یہ ناشتہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی فنڈنگ سے فراہم کیا جاتا ہے۔ بڑی کمپنیوں کے سینئر ڈاکٹروں کے ساتھ معاہدے ہوتے ہیں کہ وہ مخصوص کمپنیوں کی ادویات لکھیں گے اور مخصوص ہسپتالوں میں ٹیسٹ تجویز کریں گے۔ اگرچہ مریض ان سفارشات پر عمل کرنے میں آزاد ہے، لیکن اس کے بدلے کمپنیوں کی جانب سے ڈاکٹروں کو غیر ملکی دورے اور مخصوص فیصد (Commission) دیا جاتا ہے۔ سینئرز ہمیں بھی کہتے ہیں کہ فلاں کمپنی نے ناشتہ کرایا ہے، لہذا موقع ملنے پر مریض ان کے پاس بھیج دیا کریں اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا ڈاکٹروں کے لیے مختلف کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ شدہ ان فوائد سے نفع حاصل کرنا جائز ہے ؟ کیا یہ کھانا ٹھیکہ دینے والی کمپنیوں کی فنڈنگ سے فراہم کیا جانا ہمارے لیے جائز ہے؟ اگر یہ صحیح نہیں ہے تو باطل ہونے کی کیا وجہ ہے؟ اور اس معاملے میں توثیق کا ممکنہ طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟
جواب
طبی شعبہ انسانی جانوں کے تحفظ اور خدمتِ خلق کا ایک عظیم پیشہ ہے، جس کی بنیاد دیانت اور امانت پر قائم ہے۔ ڈاکٹر پرطبی ، اخلاقی اور شرعی اصولوں کی روشنی میں مریض کا مفاد سب سے مقدم رکھنا لازم ہے۔ جب کسی ڈاکٹر اور مریض کے درمیان تعلق قائم ہوتا ہے، تو ڈاکٹر ایک امین کی حیثیت رکھتا ہے جس کی ذمہ داری ہے کہ مریض کو بہترین ممکنہ علاج تجویز کرے اور اس سلسلے میں ذاتی مفادات کو مد نظر نہ رکھے۔ اسی امانت داری کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، ادویہ ساز کمپنیوں کی طرف سے ملنے والے مراعات اور تحائف کے حوالے سے ضابطہ یہ ہے كہ ڈاکٹر کے لیے کسی دوا ساز کمپنی سے ہر ایسی چیزیں لینا جائز نہیں جو اس کے فیصلے کو متاثر کرسکے یا جس کی وجہ سے ڈاکٹر اپنے اپ کو کمپنی کے زیرِ احسان محسوس کرےجیسے قیمتی ہدایا، بیرونی دورے وغیرہ ۔ چونکہ ہر شخص کے متاثر ہونے کا معیار مختلف ہوتا ہے، اس لیے اس کا کوئی خاص پیمانہ مقرر کرنا مشکل ہے ہر شخص اپنی ضمیر کو دیکھ کر اس کا فیصلہ کر سکتا ہے۔البتہ اگر کمپنی تشہیر کے لیے کوئی کم قیمت چیز جیسے پین یا کلینڈر وغیرہ دے، یا ایسی اشیا جن سے ڈاکٹر خود کو زیرِ بار محسوس نہ کرے، تو ان کے لینے کی گنجائش ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی فنڈنگ سے اگر ناشتہ فراہم کیا جاتا ہو اور سینئر ڈاکٹرز یہ کہتے ہو ں کہ فلاں کمپنی نے آپ کے لئے ناشتہ کرایاہے لہذا موقع ملنے پر مریض ان کے پاس بھیج دیا کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کمپنی مفادات کے حصول کے لئے یہ خرچہ کرواتی ہے چنانچہ اگر اس ناشتہ میں شرکت ڈاکٹر کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہو تو پھر اس کی حیثیت ایک رشوت کی ہوگی لہذا اس سے احتراز ضروری ہو گا اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر اس کو استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی تاہم ایک مؤمن کو چاہیئے کہ وہ مشتبہات سے بھی بچنے کی فی الوسع کوشش کرے۔
عن عبد الله بن عمرو ، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي. (مسند أبي داود 4/ 34)
(أخذ القضاء برشوة) للسلطان أو لقومه وهو عالم بها أو بشفاعة جامع الفصولين وقال ابن عابدين تحته: (قوله: أخذ القضاء برشوة) بتثليث الراء قاموس وفي المصباح الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد…أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط۔ (رد المحتار،ج:5، ص: 362)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں