بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گاؤں میں نماز جمعہ کا قیام


سوال

ضلع شانگلہ خیبر پختونخوا کے تحصیل پورن میں ہمارا گاؤں "بونیروال" مرکزی بازار الوچ سے تقریبا ڈیڑھ دو کلومیٹر کے فاصلہ پر اونچائی کی طرف واقع ہے۔گاوں بونیروال کی حدود سے الوچ تک پیدل راستہ تقریبا تیس منٹ کا ہے۔ جبکہ کچی سڑک پر موٹر سائیکل کے ذریعے دس سے بارہ منٹ کا فاصلہ ہے۔ مرکزی بازار الوچ میں نماز جمعہ کے قیام کی تمام شرائط پوری ہیں۔ علاقہ بونیروال (جو دو چھوٹی پہاڑیوں کے درمیان آمنے سامنے واقع ہے) کو تمام سرکاری کاغذات و دستاویزات جیسے شناختی کارڈ، ووٹرلسٹ، سکول و کالج، تھانہ، تحصیل، ڈومیسائل اور پٹوار وغیرہ میں باقاعدہ "گاؤں" کا نام دیا جاتا ہے اور ارد گرد پورے علاقے کے عرف اور استعمال میں بھی یہ "گاؤں بونیروال" کہلاتا ہے۔ آسانی کے خاطر گاؤں کے اندر چھوٹی چھوٹی جگہوں اور محلوں کے اپنے نام بھی ہیں لیکن گاؤں سے باہر کے لوگ اپنی باتوں میں کسی محلے کا نام نہیں لیتے بلکہ "بونیروال" ہی یاد کرتے ہیں۔ لہذا اصطلاحاً، قانوناً اور عرفاً یہ گاوں ہی ہے۔ یہ گاؤں تین سو سے زائد گھروں پر مشتمل ہے اور مرد و عورت اور چھوٹے بڑے نفوس کی تعداد چار ہزار کے قریب ہے لیکن مذکورہ گھر ایک مقام پر باہم متصل واقع نہیں ہیں بلکہ دو چھوٹی پہاڑیوں کے درمیان والے علاقے میں تھوڑے تھوڑے دور منتشر واقع ہیں۔ گاؤں بونیروال میں جگہ جگہ سات آٹھ چھوٹی دکانیں موجود ہیں لیکن چونکہ بڑا بازار الوچ قریب ہے اس لیے لوگ زیادہ تر سودا اسی مرکزی بازار الوچ سے لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ پورے گاؤں کے اندر مختلف جگہوں میں آٹھ مساجد، چار پرائمری سکول، ایک مڈل سکول، ایک ہائی سکول، ایک ٹیلر کی دکان، دو دواخانے اور چند دینی مکاتب ہیں۔ بازار الوچ اور بونیروال ایک ہی یونین کونسل میں واقع ہیں۔ گاوں بونیروال کے آس پاس دیگر بستیوں اور گاوں میں لوگ جمعہ قائم کرتے ہیں۔ تو اب سوال یہ ہے کہ: 1) کیا گاؤں بونیروال کی حدود کے اندر کسی بڑی مسجد میں نماز جمعہ اور عیدین کا قیام جائز ہے ؟ 2) اگر جائز ہے تو کیا جمعہ کا قیام صرف جائز ہے یا واجب ہے؟ 3) اس گاؤں پر قریہ کبیرہ کا اطلاق ہوسکتا ہے یا نہیں؟ 4) اس گاؤں کے باشندوں پر جمعہ اور عیدین کی نماز واجب ہے یا نہیں؟              

 

جواب

جمعہ کی صحت ِادائیگی  کے لیے دوسری شرائط کے علاوہ ایک شرط یہ ہے کہ وہ جگہ  شہر یا  بڑا گاؤں ہو،موجودہ دور میں جس علاقہ کی آبادی دوڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہواوراس میں ضروریات زندگی میسر ہوں تووہ بڑےگاؤں کی تعریف میں داخل ہوگا اوروہاں جمعہ پڑھناجائزہوگا۔صورت مسؤلہ  میں  مذکورہ گاؤں کی آبادی اگر وا قعتا   چار ہزار افراد پر مشتمل ہو،اور  ضروریات زندگی بھی میسر ہوں ہوتو اس میں جمعہ اور عیدین جائز ہے۔

 

لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ‌ولا ‌تجوز ‌في ‌القرى۔(الهداية ،كتاب الصلوة،باب الجمعة،ج1،ص:،82)

(‌ويشترط ‌لصحتها) سبعة أشياء: الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء(أو فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أولا، كما حرره ابن الكمال وغيره (لأجل مصالحه).(الدر المختار شرح تنوير الأبصار ،كتاب الصلوة،باب الجمعة،ص:10)


فتویٰ نمبر : 10755/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں