بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنا


سوال

ایک آدمی میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنا چاہتا ہے، لیکن اس بات سے ڈرتا ہے کہ کہیں انجانے میں سودی معاملات میں مبتلا نہ ہوجائے، اور عنداللہ مجرم نہ بن جائے، توکیا میزان بینک میں سیونگ  اکاؤنٹ کھولنا جائز ہے؟

جواب

موجودہ حالات میں سودی کاروبار کی حوصلہ شکنی اوراسلامی معیشت کو ترویج دینے کی خاطر اسلامی بینک کام کررہے ہیں اگرچہ ہراسلامی بینک کے نام سے کھلنے والے ادارے پراعتماد ممکن نہیں، لیکن جس بینک کے قواعد و ضوابط واقعتاً شرعی ہوں اور جیدعلماءکرام کی نگرانی میں ان پرعمل کرایا جاتاہوتوشرعاً ان کے ساتھ رقم  رکھ کرمنافع حاصل کرنے کی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق میزان  بینک میں ہماری معلومات کے مطابق تاحال اکثر معاملات معتبرعلماء کرام کی زیر نگرانی ہوتےہیں، اس لیے میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے اور اس سے نفع حاصل کرنے کی گنجائش موجو دہے ۔

 

قال الله تعالى: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة:275)

‌الأمور ‌بمقاصدها ‌يعني: ‌أن ‌الحكم ‌الذي ‌يترتب ‌على ‌أمر ‌يكون ‌على ‌مقتضى ‌ما ‌هو ‌المقصود ‌من ‌ذلك ‌الأمر. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، المادة:2، ج:1، ص:19)


فتویٰ نمبر : 6450/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں