بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 18/10/2026

دارالافتاء

 

سرجری آپریشن کی وجہ سے سر کے مسح اور غسل کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص سرجری آپریشن کے ذریعے سے بال لگوائے اور ڈاکٹر صاحب سر پر ہاتھ لگانے اور رگڑنے سے منع کرے تو  اس کے وضواور غسل کی کیا صورت ہوگی ؟

جواب

 واضح رہے کہ وضو میں چوتھائی سر کا مسح کرنا فرض ہے اس کے بغیر وضو درست نہیں ہوتا،البتہ اگر کوئی آدمی ایسا بیمار ہو کہ چوتھائی سر کے  مسح کرنے پر بھی قادر نہ ہو یا مسح کرنے سے اس کو ضرر پہنچتا ہو تو ضرورت  کی بناپر سر کے جس حصے پر بھی ایک يا دو انگلی لگاکر مسح کرے گا تو  کا فی ہو جائے گا،اسی طرح اگر کسی آدمی کے جسم میں کوئی عضو متاثر ہو اور اس کو پانی اور ہاتھ لگانا نقصان پہنچاتا ہو ،توغسل کرنے کی صورت میں متاثرہ عضو پر مسح کرکے باقی بدن پر پانی بہائے گااور اگر مسح کرنے سے بھی ضرر پہنچتا ہو تو اس عضو پر پٹی یا کپڑا باندھ کر اس کے اوپر مسح کرے گا  ۔

لہذا صورت  مسئولہ کے مطابق  مذکورہ آدمی کے سر کے متاثرہ حصے کے علاوہ اگر چوتھائی سر کے بقدر حصہ تندرست ہو اور اس کو ہاتھ لگانا نقصان نہ پہنچاتاہوتو اس پر مسح کرنے سے وضو ہو جائے گااور اگر پورا سر متاثر ہو تو سر کے   کسی حصے پربھی ایک دو انگلی لگانے سے مسح ہوجائے گا،جبکہ غسل کرنے کی صورت میں سر پر پٹی یا کپڑا باندھ کر اس پر مسح کرے اور باقی بدن پر پانی بہائے ۔

 

(والثالث) : مسح الرأس مرة واحدة... واختلف في المقدار المفروض مسحه، ذكره في الأصل، وقدره بثلاث أصابع اليد،وروى الحسن عن أبي حنيفة أنه قدره بالربع،وقال الشافعي: إذا مسح ما يسمى مسحا يجوز، وإن كان ثلاث شعرات. (بدائع الصنائع،کتاب الطہارۃ،  ج:1، ص:102)

يجوز العمل والإفتاء بالضعيف عند الاضطرار وما ألحق به...وأن المفتي له الإفتاء للمضطر. فما مر من أنه ليس له العمل بالضعيف ولا الإفتاء به:محمول علی غیٖر موضع الضرورۃ. (شرح عقود رسم المفتي، ص:89)

ولو كان ببعض أعضاء الجنب جراحة أو جدري، فإن كان الغالب هو الصحيح غسل الصحيح وربط على السقيم الجبائر، ومسح عليها، وإن كان الغالب هو السقيم تيمم؛ لأن العبرة للغالب، ولا يغسل الصحيح عندنا. (بدائع الصنائع،فصل في التيمم، ج:1، ص:328)

تيمم لو) كان (أكثره مجروحاوبعكسه يغسل) الصحيح ويمسح الجريح)قوله ويمسح الجريح) أي إن لم يضره وإلا عصبها بخرقة ومسح فوقها. (رد المحتارعلی الدرالمختار، کتاب الطہارۃ، ج:1، ص:430)


فتویٰ نمبر : 10833/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں