بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

امام کا مسجد کی الماری میں اپنی ذاتی کتب رکھنا


سوال

امام مسجد کا اپنی ذاتی کتابیں مسجد کی الماری میں رکھ کر اس کو تالا لگانا کیسا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد کے چندہ دہندہ گان اگر کسی خاص مصرف کےلیے چندہ دیں، تو شرعا اس کو اسی مد میں استعمال کر نا ضروری ہے۔لیکن اگر چندہ دہندہ گان کسی خاص مصرف  کی تعیین کئے بغیر چندہ دیں، تو اس کو عرف کے مطابق مسجد کے مصارف و مصالح میں خرچ کیا  جاسکتا ہے۔

صورت مسئولہ میں مسجد کی الماری کو مصالح مسجد میں استعمال کیا جائے گااورچونکہ مصالح مسجد میں امام بھی شامل ہے ، اس لیے امام کے لیے مسجد کی الماری کواپنی ذاتی دینی کتب کے لیے استعمال کرنا جائز ہے،اور اگر ضرورت ہو تو تالابھی لگاسکتاہے تاہم ضروری ہے کہ اس کی وجہ سےمسجدکے قرآن مجید،سیپارےوغیرہ کے لیے جگہ کم نہ پڑتی ہو۔

 

وإذا أراد أن يصرف شيئا من ذلك إلى إمام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك إلا إن كان الواقف شرط ذلك في الوقف.(الفتاوی الهندية، كتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد، ج:2، ص:413)

وبما ذكرناه علم أنه لو بنى بيتا على سطح المسجد لسكنى الإمام فإنه لا يضر في كونه مسجدا لأنه من المصالح.(البحرالرائق، كتاب الوقف، ج:5، ص:421)


فتویٰ نمبر : 6448/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں