بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ایسی کمپنی کے شیئرز خریدنا جس کا ایک حصہ آمدنی سود کا ہو


سوال

ایک شخص نے ایسی کمپنی کے شیئرز خریدے جو حلال چیزیں ( ادویات) بناتی ہے، مگر اس کی آمدنی کا ایک حصہ بینک سود پر مبنی سرمایہ کاری سے بھی آتا ہے،کیا ایسی کمپنی کے شیئرز خریدنا شرعاً جائز ہے؟ اگر آمدنی کا جزوی حصہ حرام ہو تو اس کا کیا حل ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ کسی بھی کمپنی کے شیئرز خریدتے  ہوئے  اس بات  کی رعایت رکھنا ضروری  ہے کہ جس کمپنی کے شیئرز خریدے جارہے ہوں اس کا اصل کاروبار حلا ل ہو ،اگر کمپنی کوئی حرام کاروبار یا سودی لین دین کرتی ہو ،تو  اس کے شیئر خریدنا جائز نہیں ،البتہ اگر  کمپنی کا اصل کاروبار تو حلال ہو لیکن سودی لین دین بھی کرتی ہو،مثلا بینک سے سودی قرضہ حاصل کرتی ہو یا اضافی رقم سودی کھاتے میں جمع کرتی ہو تو ایسی صورت میں اس کمپنی کے شیئرز خریدنا دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے، پہلی شرط یہ ہے کہ وہ اپنی بس کے مطابق سود کے خلاف آواز اٹھائے اور سالانہ میٹنگ میں اظہار کرے  کہ ہم سودی لین دین پر راضی نہیں ہیں ، لہذا اس کو بند کیا جائے ۔دوسری شرط یہ ہے آمدنی کا جو حصہ سودی کھاتے میں رقم جمع کر کے حاصل کیا گیا ہو، وہ بلانیت ثواب صدقہ  کیا جائے۔‌

صورت مسئولہ کے مطابق ایسی کمپنی جس کا جزوی منافع سود پر مشتمل ہو ،تو ان  شرائط کی رعایت رکھتے ہوئے اس کمپنی کے شیئرز خریدنا جائز ہے،بصورت دیگر جائز نہیں ۔

 

وبطل ‌بيع ‌مال ‌غير ‌متقوم كخمر وخنزير فإن المتقوم هو المال المباح الانتفاع به شرعا.( رد المحتار على الدر المختار، ‌‌باب البيع الفاسد، مطلب في تعريف المال، ج:7، ص:235)

إذا ‌دفع ‌المسلم إلى النصراني مالا مضاربة بالنصف فهو جائز إلا أنه مكروه، فإن اتجر في الخمر والخنزير فربح جاز على المضاربة في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وينبغي للمسلم أن يتصدق بحصته من الربح.( الفتاوى الهندية، كتاب المضاربة، الباب الثاني والعشرون في المضاربة بين أهل الإسلام وأهل الكفر، ج:4، ص:333)


فتویٰ نمبر : 3922/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں