بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زمین میں شریک بہن کو پیدوار کا عشر دینا


سوال

ہمارے والد محترم کا انتقال ہوچکا ہے، اس کی جائیداد ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی ہے، ہم سب بھائی بہن اس جائیداد میں شریک ہیں، ہماری ایک بہن شادی شدہ ہےاور مالی طور پر کمزورہے، ہم تین بھائیوں نے شریک بہنوں کی اجازت سے اس زمین میں فصل کاشت کی ہے، کیا ہم اس زمین کی پیداوارکا عشر اپنی اسی بہن کو دے سکتے ہیں، جبکہ وہ ہمارے ساتھ اس زمین میں شریکہ بھی ہے لیکن فصل میں شریکہ نہیں؟

جواب

قرآن وحدیث کی روشنی میں اجنبی مستحقین کی بجائے مستحق رشتہ دار کوشتہ دار کے زکوٰۃ، عشر، صدقہ وغیرہ دینا زیادہ بہتر ہے، کیونکہ اس سے صلہ رحمی کو تقویت ملتی ہے اور شریعت اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ مزید یہ کہ عشر زمین پر نہیں بلکہ پیداوارپرواجب ہوتا ہے، اس لیے جس کی  پیداوار ہو اسی پر عشر واجب ہوتا ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر پیداوار بھائیوں کی ملکیت ہو، تو بھائی اپنی مستحقہ بہن کو اس پیداوار کا عشر دے سکتے ہیں ۔

والعشر ‌يجب ‌في ‌الخارج والخارج بينهما فيجب العشر عليهما. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الزكاة، باب العشر، فروع في زكاة العشر، ج:2، ص:335)

والأفضل إخوته وأخواته ثم أولادهم ‌ثم ‌أعمامه ‌وعماته ‌ثم ‌أخواله ‌وخالاته ثم ذوو أرحامه ثم جيرانه ثم أهل سكته ثم أهل بلده كما في النظم. (رد المحتار على الدر المختار، کتاب الزکاۃ، باب مصرف الزکاۃ والعشر، ج:2، ص:354)

وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة. (رد المحتار على الدر المختار، کتاب الزکاۃ، باب مصرف الزکاۃ والعشر، ج:2، ص:346)


فتویٰ نمبر : 10720/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں