بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نقل سے امتحان پاس کرکے نوکری کرنا


سوال

1۔ایک شخص نے نقل سے امتحان پاس کیا، اب وہ ڈگری استعمال کرکےنوکری کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

2۔اگر اس شخص میں نوکری کی صلاحیت ہو، تو کیا ایسی نوکری جائز ہے؟

3۔اگر نوکری سے پہلے انٹری ٹیسٹ لیا گیاہو، اور خود سے(بغیرنقل کے) پا س کرلے، تو کیانوکری جائز ہوگی؟

4۔اگر بغیر ٹیسٹ کے صرف ڈگری پر نوکری ملی ہو، تواس کا کیا حکم ہے؟

جواب

امتحانات میں نقل کرنا  دھوکہ دہی اور خیانت ہونے کی وجہ سے ناجائز عمل ہے، جس سے احتراز کرنا لازم ہے، البتہ نقل کرکے حاصل کی گئی ڈگری پر نوکری کرنے کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ شخص اس  ملازمت اور نوکری کی صلاحیت رکھتا ہواور اس کے تمام امور دیانت داری کے ساتھ انجام دیتا ہو، تو اس کی یہ نوکری جائز ہوگی۔ لیکن اگر وہ اس ملازمت کےتمام امور دیانت اداری کے ساتھ انجام دینے کا اہل نہ ہوتو پھر اس کی یہ نوکری جائز نہ ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے نقل سے امتحان پاس کیا ہو، اور اب وہ ڈگری استعمال کرکے نوکری کرے تو اگر اس شخص کے اندراس نوکری کی مفوضہ ذمہ داریوں کو سرانجام دینے کی صلاحیت  موجود ہو، اور تمام امور دیانت داری کے ساتھ پورا کرتا ہو، تو اس کی تنخواہ حلال ہوگی، خواہ  ٹیسٹ سے نوکری ملی ہو یا اس کے بغیر۔ البتہ اگراس میں نوکری کی صلاحیت نہ ہو یا مفوضہ ذمہ داری کو دیانت داری کیساتھ پورا نہ کرتا ہو، تو پھر تنخواہ حلال نہ ہوگی ۔

 

{إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها وإذا حكمتم بين الناس أن تحكموا بالعدل إن الله نعما يعظكم به إن الله كان سميعا بصيرا ‌‌(58) } ‌يخبر ‌تعالى ‌أنه ‌يأمر ‌بأداء ‌الأمانات ‌إلى ‌أهلها، وفي حديث الحسن، عن سمرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أد الأمانة إلى من ائتمنك، ولا تخن من خانك". رواه الإمام أحمد وأهل السنن وهذا يعم جميع الأمانات الواجبة على الإنسان، من حقوق الله.....ومن حقوق العباد بعضهم على بعض كالودائع وغير ذلك مما يأتمنون به بعضهم على بعض من غير اطلاع بينة على ذلك. فأمر الله، عز وجل، بأدائها، فمن لم يفعل ذلك في الدنيا أخذ منه ذلك يوم القيامة. (تفسير ابن كثير، سورة النساء، آية:58، ج:، ص: (2/ 338)

عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: «يا صاحب الطعام، ما هذا؟»، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس»، ثم قال: «‌من ‌غش ‌فليس ‌منا». (سنن الترمذي، أبواب البيوع، باب ما جاء في كراهية الغش في البيوع، ج:، ص: (3/ 598)

ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها. (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب الثاني متى تجب الأجرة، ج:، ص: (4/ 413)


فتویٰ نمبر : 6450/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں