بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

قرض کے بدلے اضافی رقم کا مطالبہ


سوال

ایک شخص ACخریدرہا تھا، جس کی قیمت نقد ایک لاکھ روپےتھی، جبکہ قسطوں کی صورت میں قیمت ایک لاکھ بیس ہزار روپےتھی(یعنی قسطوں کی صورت میں 20 فیصداضافہ تھا)۔ خریدارکے پاس اس وقت 80 ہزار روپےنقد موجود تھے،اور دکاندارنے باقی 20 ہزار روپے قسطوار دینے کی صورت میں 20 فیصداضافی رقم کا مطالبہ کیا، توخریدارنے ایک تیسرے شخص سے 20ہزارروپے بطور قرض لےلیے، اور دکاندار کوایک لاکھ پوری رقم ادا کردی، اب وہ تیسرا شخص یہ مطالبہ کررہا ہے کہ مجھے بھی اس بیس ہزار روپے پر20 فیصد زیادہ واپس کرو گے، تو اس کاکیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قرض کے بدلے اضافی رقم کا مطالبہ کرنا سود ہے، جس کا حرام ہونا نصوص قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں 20ہزار قرض دینے والےکا قرض پر 20 فیصد اضافی رقم کا مطالبہ کرنا سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے، لہٰذا اس سے احتراز ضروری ہے۔

 

قال الله تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴾ [آل عمران: 130] 

عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا، ‌وموكله، ‌وكاتبه، ‌وشاهديه، وقال: هم سواء. (صحيح مسلم، كتاب المساقاة، باب لعن أكل الربا وموكله، رقم الحديث:1598، ج:3، ص:1219)

لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «‌نهى ‌عن ‌قرض ‌جر ‌نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا. (بدائع الصنائع، كتاب القرض، فصل في شرائط ركن القرض، ج:7، ٔص:395)


فتویٰ نمبر : 3923/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں