بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

جہاں اذن عام نہ ہو وہاں نمازِ جمعہ


سوال

جی حضرت! ہمارے یہاں ڈینس سٹی میں امتیاز مارٹ کے نیچے بیسمنٹ میں ایک مسجد ہے، جہاں پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے، اور جمعہ کی نماز بھی پڑھائی جاتی ہے۔ لیکن جمعہ کی نماز میں صرف امتیاز مارٹ کے اسٹاف کو اجازت دی جاتی ہے، باہر کے لوگوں کو اجازت نہیں ہوتی، اگر کوئی باہر سے جمعہ کی نماز پڑھنےکے لیے آتا ہے تو سیکیورٹی والے نہیں چھوڑتے، کیا ایسی مسجد میں جمعہ قائم کرنا جائز ہے؟

واضح رہے کہ عام لوگوں پر یہ پابندی سامان کی حفاظت کے لیے ہے، کیونکہ نماز جمعہ کے لیے سٹاف والے مع سکیورٹی گارڈ سب نماز کے لیے جاتے ہیں، اور گیٹ بند کردیتے ہیں، ورنہ دیگرپانچ وقتہ نمازوں میں ہر کسی کو آنے کی اجازت ہے۔

جواب

واضح رہے کہ جمعہ قائم کرنے کی شرائط میں سے ایک شرط اِذن ِ عام  ہے، یعنی جس جگہ جمعہ ادا کیا جائے وہاں  ہرشخص کو آنے اور نمازِجمعہ میں شریک ہونے کی اجازت ہو، کسی کو جمعہ کی نماز کے لیے آنے سے روکا نہ جاتا ہو،لہٰذاجہاں عام لوگوں کے  آنے کی اجازت نہ ہو وہاں جمعہ قائم کرنا درست نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی جگہ شہر کے اندر ہو، اور دفاعی، انتظامی یاسیکیورٹی وجوہ کی بنا پر اس جگہ میں ہر کسی کو آنے کی اجازت نہ ہوتو اس جگہ میں نماز جمعہ قائم کرنا جائز ہوگا۔

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ مصلی میں انتظامی امور اور املاک کی حفاظت کی غرض سے عام لوگوں کا داخلہ بند ہو، تو ایسی صورت میں وہاں جمعہ قائم کرنا جائز ہوگا۔

 

(‌ومنها ‌الإذن ‌العام) وهو أن تفتح أبواب الجامع فيؤذن للناس كافة حتى أن جماعة لو اجتمعوا في الجامع وأغلقوا أبواب المسجد على أنفسهم وجمعوا لم يجز وكذلك السلطان إذا أراد أن يجمع بحشمه في داره فإن فتح باب الدار وأذن إذنا عاما جازت صلاته شهدها العامة أو لم يشهدوها، كذا في المحيط ويكره، كذا في التتارخانية وإن لم يفتح باب الدار وأجلس البوابين عليها لم تجز لهم الجمعة، كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة،الباب السادس عشر في صلاة الجمعة، ج:1، ص:148)

(و) السابع: (الإذن العام)من الإمام، وهو يحصل بفتح أبواب الجامع للواردين كافي فلا يضر غلق باب القلعة لعدو أو لعادة قديمة لأن الإذن العام مقرر لأهله وغلقه لمنع العدو لا المصلي، نعم لو لم يغلق لكان أحسن كما في مجمع الأنهر معزيا لشرح عيون المذاهب. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:2، ص:151-152)


فتویٰ نمبر : 10720/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں